اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے چیف کمشنر نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) تشکیل دے دی۔
اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں پولیس، حساس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
ان کے علاوہ جے آئی ٹی میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن،ایس ایس پی سی ٹی ڈی ، ایس پی صدر، ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او مارگلہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
جے آئی ٹی اسلام آباد ہائی کورٹ، ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار سے مدد لے گی، تھانہ مارگلہ اور رمنا میں اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس کی تفتیش کریں گے۔
اسلام آباد: جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر سے متعلق اہم پیشرفت
خیال رہے کہ 7 فروری کی رات سی ڈی اے اور مقامی پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 کی ضلعی عدالتوں کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا۔
اس آپریشن کے دوران وکلا کے غیرقانونی طور پر تعمیر کردہ دفاتر بھی گرا دیئے گئے تھے۔
پولیس نے اس آپریشن کے خلاف مزاحمت کرنے پر 10 وکلا کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔
بعد ازاں اگلے روز بڑی تعداد میں وکلا ضلعی عدالتوں پر جمع ہوئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد وکلا نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر پر دھاوا بولا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور انہوں نے پولیس ری انفورسمنٹ اور رینجرز کے کنٹرول سنبھالنے تک چیف جسٹس بلاک کا گھیراؤ جاری رکھا۔
بعدازاں وکلا کے منتخب نمائندوں نے ججز کے ساتھ مذاکرات کیے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے۔
