اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی پرائس کمیٹیوں کو ختم کردیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں مہنگائی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی۔ نرخوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ذمہ داری ہم نے انتظامیہ کو منتقل کردی ہے۔
شبلی فراز نے کہا کہ ضلع انتظامیہ پورے شہر میں ایک ہی نرخ پر اشیا خورونوش کی قیمت نافذ کرے گی۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی ذمہ دار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کیلئے موثراقدامات کیے ہیں۔ ریوینیو لیکیج کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانےجا رہے ہیں۔ ایف بی آر میں اصلاحات سے محصولات میں 368 ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے محصولات کے متبادل ذرائع پر زور دیا ہے۔
شبلی فراز نے کہا کہ سندھ حکومت نے بروقت گندم کی سپلائی نہ دے کر کراچی میں آٹا مہنگا کیا۔ ایک صوبے کی 6 سال کی ذخیرہ اندوزی سے ہمیں باہر سے آٹا درآمد کرنا پڑا۔
وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن شفاف بنانے کیلئےعملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پوری کوشش ہے سینیٹ الیکشن میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن سے اصلاحات کی بات کی جائے تو پہلے این آراو مانگتے ہیں۔ آرڈیننس کو پاس کروانے کیلئےطریقے کار واضح ہے، اپوزیشن کے بیان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
مزید پڑھیں:سینیٹ الیکشن: بلاول بھٹو نے صدارتی آرڈی ننس چیلنج کرنیکا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے کچھ ارکان نے پیسہ لے کر گزشتہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ دیے۔ ماضی کے سینیٹ انتخابات میں ضمیر کی بولی لگتی رہی اور ووٹ بیچے جاتے رہے۔ ویڈیومیں نوٹ گنتےدیکھاجاسکتاہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پارلیمان میں بیٹھے ارکان کی اخلاقی قوت ہی ان کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ پارلیمان میں آنے والے ممبران کیلئے طریقہ کار شفاف بنانا چاہتے ہیں۔ منتخب نمائندے اگر باعزت ہونگے تو ان کے بنائے قوانین کی بھی عزت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی بہتری سے ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ سینیٹ الیکشن سے قبل ووٹوں کی خریدوفروخت کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ موجودہ سینیٹ الیکشن کے بھی ریٹ لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جرم، سیاست اور جمہوریت جڑ جاتے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ پی ڈی ایم ماضی میں اوپن بیلٹ کی حامی تھی اور جب عملی اقدامات کی بات آئی تو تنقید کی جارہی ہے۔ جو نمائندے ساری کمائی لوٹا کرسینیٹ پہنچتے ہیں وہ بعد میں اسی سیٹ سے کماتے ہیں۔ کالا پیسہ لگا کر سینیٹ کی سیٹ لینا اور پھر اسی سیٹ کے اثرورسوخ کو استعمال کرنا گھناوَنا کھیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخری فیصلہ وہی ہوگا جو سپریم کورٹ تشریح کرے گی۔ صدارتی بل کے حوالے سے حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کا ہوگا۔ ہمارے اختیار میں تھا ہم بل لے آئے آرڈیننس لے آئے معاملہ سپریم کورٹ میں ہے چاہتے ہیں وہاں سے تشریح ہو۔
