بھارتی کسانوں کی حمایت میں صرف ایک ٹوئٹ کرنے پر بھارتیوں نے امریکی گلوکارہ ریحانہ کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے دیا بھارتیوں نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے ساتھ گلوکارہ کی پرانی تصویر شئیر کی اور اپنا غصہ نکالتے رہے۔
بھارتی شہریوں نے یہاں تک الزام لگایا کہ ریحانہ نے بھارتی کسانوں کے حق میں ٹوئٹ کرنے کے لیے پاکستان سے پیسے لیے ہیں۔
امریکی گلوکارہ ریحانہ نے بھارتی کسانوں کی حمایت میں ٹوئٹ کیا تھا جس پر مودی سرکار اور انتہا پسند ہندو انتہا پسند تلملا ہی اٹھے تھے۔ بھارتی صارفین کو اتنی آگ لگی کہ انہوں نے گلوکورہ کی زلفی بخاری کے ساتھ پرانی تصویر ڈھونڈ لکالی اور الزام تراشی شروع کر دی
سوشل میڈیا پر بھاری صارفین نے دعویٰ کیا کہ ریحانہ محض پاکستانی معاون خصوصی زلفی بخاری کی وجہ سے کسانوں کے احتجاج کا ساتھ دے رہی ہیں
بھارتیوں کے مطابق ریحانہ کا زلفی بخاری کے ساتھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان سے پیسے لے کر بول رہی ہیں۔ زلفی بخاری کے ساتھ ریحانہ کو دیکھ کر پتا چلا وہ کسانوں کا ساتھ کیوں دے رہی ہیں؟
ان بھارتیوں کو اس وقت مزید آگ لگی جب زلفی بخاری نے ریحانہ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بالکل صحیح کام کیا ۔ بھارتی حکومت آزاد میڈیا پر پابندیاں لگا رہی ہے۔ صرف کسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کشمیریوں پر مظالم کی کوریج پر بھی پابندی ہے۔
Well said & well done.
That’s because they’ve blocked all credible media in India.
Not just with the farmers but also with the oppressed Kashmiris.#FarmersProtest https://t.co/rrmFjyyrl8— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) February 3, 2021
بعض بھارتیوں نے لکھا کہ معروف امریکی گلوکارہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ ہیں۔
دوسری جانب کسانوں کی تحریک کےخوف سے مودی سرکار کے ہوش اڑگئے اور ںئی دلی کے اردگرد آہنی دیواریں اور سڑکوں پر میخیں لگا دیں۔
کسان رہنماوں کا کہنا ہے کہ جب جب راجا ڈرتا ہے قلعہ بندی کرتا ہے۔ کسانوں نے زرعی قوانین واپس نہ لینے پر مودی ہٹاو تحریک کا اعلان بھی کردیا، جبکہ چھ فروری کو بھارت بند کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکی گلوکارہ ریحانہ کے کسانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے بعد مودی سرکار کے ہوش ٹھکانے آگئے، ملک میں اتحاد پیدا کرنے کی باتیں کرنے لگے۔
