اسلام آباد: احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، آغاجان اختر، عظمیٰ عادل اور سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق پربھی فرد جرم عائد کی ہے۔
ملزمان حسین داؤد، عبداللہ خاقان عباسی اور عبدالصمد داؤد پر وڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔ تمام ملزمان نے احتساب عدالت اسلام آباد میں صحت جرم سے انکار کر دیا۔
ایل این جی ریفرنس میں استغاثہ سے 19 نومبر کو شہادتیں طلب کر لی ہیں۔ ایل این جی ریفرنس میں15 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ فلپ ناٹمین، چودھری اسلم، محمد امین اور ثناصادق بھی ملزمان میں شامل ہیں۔
شاہد خاقان کے بیٹے عبداللہ خاقان کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ چوہدری اسلم شاہد خاقان عباسی کی ائیر لائن کے ایم ڈی ہیں جب کہ فلپ ناٹمین کو ایل این جی ٹرمینلز کے لیے کنسلٹنٹ رکھا گیا تھا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ 15 سال کی مدت کے لیے 16 ارب ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔اس وقت وہ وفاقی وزیر پٹرولیم تھے۔
وزارت کے پٹرولیم کے دو افسران ایل این جی کیس میں اپنے سابق وزیر شاہد خاقان عباسی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔
ن لیگ کے سابق دور حکومت میں اس وقت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
سابق وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکہ ایسی کمپنی کو دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔
مذکورہ کیس میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نیب کی حراست میں بھی رہ چکے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم کو جولائی 2019 میں حراست میں لیا تھا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل ایل این جی کیس میں ضمانت پر رہا ہیں۔
