اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نیب کیسز میں رعایت دینی ہے تو اپوزیشن سے بات چیت کا کیا فائدہ؟
اتحادیوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کرنا چاہتے تھے مگر اپوزیشن نے درمیان میں این آر او مانگنا شروع کردیا۔ ذاتی مفاد کی شرائط پر بات چیت بے معنی ہوں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آئندہ اڑھائی سال کو صرف کارکردگی کے سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے اڑھائی سال حکومت اور اتحادی بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ اگلا الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اگلے عام انتخابات تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر سخت اقدامات اٹھانے سے متفق ہوں۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کررہے ہیں۔ معیشت تیزی سے بہتر ہورہی ہے اور برآمدات بھی بڑھ گئی ہیں۔
ہم نیوز کے مطابق اتحادیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے۔ جب حکومت ملی ملک ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پر تھا۔ 17 سال بعد کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ مثبت ہوا۔ معاشی ٹیم نے محنت کی اور ملکی معیشت کو استحکام ملا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری
وزیراعظم عمران خان کے ظہرانے میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور متحدہ قومی مومنٹ (ایم کوی ایم) کے وفد نے سندھ حکومت سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا
وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا نے سندھ کے مسائل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور سندھ حکومت کی ناانصافیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی بیوروکریسی وفاق کے منصوبوں کو بھی پیپلزپارٹی کی مرضی سے چلا رہی ہے۔ وفاق کے منصوبوں میں منتخب ارکان پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔
اتحادیوں نے کہا کہ سندھ کے ہر محکمے میں صرف پیپلزپارٹی کا کنٹرول ہے۔ سندھ کی بیوروکریسی وفاق کے منصوبوں کو بھی پیپلزپارٹی کی مرضی سے چلا رہی ہے۔
ایم کیو ایم نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم ارکان نے کہا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ سندھ حکومت کے عدم تعاوَن کی وجہ سے کراچی کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔
ایم کیو ایم ارکان نے کہا کہ احساس پروگرام میں سندھ حکومت من پسند افراد کو نواز رہی ہے۔ سندھ حکومت ہمارے حلقوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کررہی ہے۔حکومت وفاقی منصوبوں پر اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے۔
ایم کوی ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے لاپتہ کارکنوں اور کراچی کے مقدمات اور پارٹی کے تحفظات پیش کیے۔
ظہرانے میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ملکی معیشت اور معاشی اصلاحات پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی حکومتی کارکردگی اور بلوچستان کے مسائل پر بات کی۔
وزیراعظم کے ظہرانے میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبر پختوانخوا محمود خان، گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فوادچویدری نے بھی شرکت کی۔
