کراچی: جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم اور ممتازعالم دین مفتی محمد نعیم کو سپرد خاک کردیا گیا۔ ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم کی نماز جنازہ معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی۔
وزیر زراعت گلگت بلتستان حاجی جانباز خان کورونا سے انتقال کر گئے
مفتی نعیم کا ہفتے کی شام حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال ہو گیا تھا۔ مرحوم کافی عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھاے۔ ان کا بائی پاس آپریشن بھی ہو چکا تھا۔
ہفتے کی شام طبیعت خراب ہونے جب انہیں کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو اسی دوران راستے میں وہ دار فانی سے کوچ کرگئے تھے۔
مفتی محمد نعیم کے انتقال کر جانے پر ترجمان جامعہ بنوریہ نے بتایا تھا کہ مرحوم دل اور سانس کے عارضے میں مبتلا تھے۔
ہم نیوز کے مطابق جامعہ بنوریہ کے استاد سیف اللہ ربانی نے مفتی محمد نعیم کے انتقال پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا تھا کہ کل (بروز اتوار) بعد از نماز عصر مفتی محمد نعیم کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
ٹی وی میزبان طارق عزیز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
انہوں نے کہا تھا کہ مفتی نعیم کی تدفین ان کے والد کے پہلو میں جامعہ بنوریہ قبرستان میں کی جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مفتی محمد نعیم کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں بلند درجہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور صبر جمیل پہ اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی مفتی محمد نعیم کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی نعیم نے مشکل وقت میں ہمیشہ حکومت کی مدد کی۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اورسربراہ بیت المال سندھ حنید لاکھانی نے بھی مفتی نعیم کی وفات پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی محمد نعیم ایک ممتاز عالم دین تھے۔ انہوں نے مفتی محمد نعیم کے انتقال کو ایک المناک واقعہ قرار دیا ہے۔
ماہر تعلیم و لسانیات پروفیسر شوکت مغل 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
پی ٹی آئی رہنما جنید لاکھانی نے کہا ہے کہ مفتی محمد نعیم نے زندگی بھر دین اور مسلمانوں کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنے میں وقت لگے گا۔
