https://www.facebook.com/HUMNewsPakistan/videos/550697402232609/
کراچی: پاکستان میں تیل اور گیس کی ترسیل کے ذمہ دار ادارے اوگرا نے خبردار کیا ہے کہ زائد قیمت پر پیٹرول فروخت کرنے اور قلت میں ملوث فلنگ اسٹیشن سیل کردیئےجائیں گے۔
ترجمان اوگرا نے بیان میں کہا کہ پٹرولیم مصنوعات سےمتعلق تمام ترصورتحال پرنظر رکھ جا رہی ہے اور تیل کمپنیوں کوپٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ہدایات بھی دی ہیں۔ آئل ریفائنریز کو مقامی پیداواربہتربنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اوگرا کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ تیل ذخیرہ کرنےوالوں اور گراں فروشوں کےخلاف سخت ایکشن ہوگا۔ وزارت توانائی، اوگرا اورایف آئی اے کی مشترکہ ٹیمیں انسپکشن کررہی ہیں۔ ضلعی حکومتوں کوپیٹرول کی مصنوعی قلت ختم کرانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کتنا سستا ہوا؟
وزیراعظم عمران خان نے بھی ملک بھر میں پیٹرول بحران کا نوٹس لیتے ہوئے72 گھنٹوں میں سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
کابینہ اجلاس میں وزرا نے عمر ایوب اور ندیم بابر سے سخت سوالات کیے۔ وفاقی کابینہ نے عوام کو اضطراب یا غیر یقینی کا شکار نہ ہونے اور ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کرنے کی اپیل کی ہے۔
https://www.facebook.com/HUMNewsPakistan/videos/601078840832055/
وزیراعظم نے بلا تاخیر ذمہ داروں کا تعین کرنے اور فوری ایکشن کا حکم دیا ہے۔ چیئرمین اوگرا کو طلب کرتے ہوئے وارننگ دی کہ اگر چئیر مین اوگرا ذمہ دار نکلے تو رعایت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے خیبر تک پیٹرول کا بحران برقرار
دوسری جانب کراچی سے خیبر تک پیٹرول کا بحران جاری ہے۔ کراچی، لاہور اور پشاور سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں عوام پیٹرول کی تلاش میں دربدر ہیں۔
شیخوپورہ سمیت مختلف شہروں میں مہنگا تیل فروخت کرنے پر اوگرا نے پیٹرول پمپس سیل کر دیئے ہیں۔ وسطی اور جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جارہا۔
خیبرپختون خوا کے شہری بھی پیٹرول کے حصول کیلئے لمبی قطاروں کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھی پٹرول کی قلت کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آئل کمپنیاں ادائیگی کے باوجود پیٹرول سپلائی نہیں کر رہیں۔
