وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ آج صورتحال اتنی خطرناک نہیں جتنی 72 گھنٹے پہلے تھی، عالمی بیک ڈورڈپلومیسی کے نتیجے میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تمام سیاسی جماعتوں کانیشنل ایکشن پلان پراتفاق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں سیکیورٹی اجلاس میں اصول طے کرلیے گئے تھے، طے کیا گیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان میں خامیاں دورکی جائیں گی، اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے آئے گا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف حکومتی پالیسی کے تین حصے ہیں، معاشی حکمت عملی کے تحت ان تنظیموں کی فنڈنگ روکنی ہے اور غیرمسلح کرنا ہوگا، انتظامی اقدامات کچھ ہفتوں میں نظر آنے لگیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا اب تیسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس پر تمام سیاسی جماعتیں اورادارے ایک صفحے پر موجود ہیں اور اس پر بنائی گئی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کا یہ وقت بھی موضوع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں بنائی گئی پالیسی پر جنوری سے کام ہو رہا تھا بھارت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا ہمارے ملکی مفاد میں ہے، ہم نے 70 سے زائد ممالک کے لئے پاکستان کے ویزے کے حصول کے لئے آسانی پیدا کی ہے تاہم اس کے لئے ماحول بھی سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں وزیراطلاعات نے غیر ملکی خبرایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختلف گروپوں کی فنڈنگ روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم گروپوں پرعملی لحاظ سے پابندیوں کو یقینی بنائیں گے، ہمیں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو لاگو کرنا ہے۔
