وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کی حمایت میں 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر پیغام جاری کیاہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر باہمی مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ میں حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب آیا تھا مگر اب پاکستان روانہ ہو رہا ہوں ۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کلسٹرایمونیشن کااستعمال بین الاقوامی قوانین اور جنیواکنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان ہاؤس واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور پاکستانی سفیر بھی شریک ہوئے۔
امریکی صدر اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کی 2 نشستیں ہوگی، پہلی نشست اوول آفس اور دوسری کیبنٹ روم میں ہوگی۔
پاک امریکہ بزنس کونسل کے اراکین نے وزیر خارجہ کو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
اقوام متحدہ نے2008میں سیکیورٹی کی صورتحال کو نامناسب سمجھتے ہوئے اسلام آباد کو “نان فیملی اسٹیشن” قرار دیا۔
وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پاک ایران تعلقات ،علاقائی سلامتی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ الیکشن 2018سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )نے جنوبی پنجاب صوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔










