اسلام آباد: پاکستان نے حالیہ دنوں وزیراعظم عمران خان اور امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے درمیاں ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق تنازعہ کو ختم کرنے کا عندیہ دے دیا۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران جب ان سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس تنازعے کا خاتمہ چاہتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سیاسی طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے کیونکہ وزیر خارجہ معاملہ پر بات کر چکے ہیں اور اب اس حوالے سے مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو چند روز بعد پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکی مسلح افواج کے سربراہ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔
دھشت گردی بات چیت کا بنیادی حصہ ہوگا: امریکی وزیر دفاع
پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران جب امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس سے پوچھا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ یا افعانستان میں امریکہ کی مدد کرنے کے حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم پر کتنا اعتبار کر تے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری پومپیو اور چیئرمین نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لئے اسلام آباد جا رہے ہیں، ہمارا مشرکہ دشمن یعنی دہشت گردی اس بات چیت کا بنیادی حصہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری پومپیو اور وہ دہلی میں اپنے ہم منصبوں سے ملنے کے لیے انڈیا جا رہے ہیں۔ ہمارے دورے کا مقصد دنیا کی دو سب سے نڑی جمہوریتوں کے درمیان مضبوط ہوتی شراکت داری کو جاری رکھنا ہے۔ ہم انڈیا کی مضبوط ہوتی جمہوریت، فوج اور معیشت کو دنیا میں استحکام کے ایک عنصر کت طور پر دیکھتے ہیں۔ اور ہم یہ یقین دہای کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مشترکہ مفاد ہے اور ہم اکھٹے کام کر رہے ہیں اور کئی ایک معاہدوں کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں جو اس شراکت داری کو مضبوط بنارہے ہیں۔
کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کےدوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر نظر بند کیا ہے ۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال اور حریت رہنماؤں کی غیر قانونی نظر بندی کی مذمت کرتا ہے۔ حریت رہنماؤں کی بگڑتی صحت کی صورتحال پر بھی تشویش ہے۔
انہوں نے عالمی برادی پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
ترجمان نے کہا کہ الجزیرہ ٹی وی نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ڈاکیومنٹری نشر کی تھی جس کے بعد بھارت کی جانب سے کشمیر میں الجزیرہ کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔
اہیوں نے کہا کہ ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی شہادت پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے پاکستان نے ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان نے بھرپور احتجاج کیا ہے اور وزیر خارجہ نے او آئ سی کو بھی اس سلسلے میں خط لکھا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ڈچ سفیر کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
