چین کے شہری ژاؤ دیان، جن کے پاس چین، آسٹریلیا اور فرانس کی تین ماسٹرز ڈگریاں ہیں، نے شاندار اور پرتعیش زندگی کو خیرباد کہہ کر ایک بوسیدہ جھونپڑی میں رہائش اختیار کر لی اور گذر بسر کیلئے برتن دھونے کا کام شروع کر دیا۔
ژاؤ پہلے پیرس میں ایک مالی ادارے میں بطورانٹرن کام کر چکے تھے اورایک صاحب ثروت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں انکے والد شنگھائی میں کامیاب کاروباری ہیں اورخاندان کا بنگلہ نجی لفٹ کیساتھ شاندارحیثیت رکھتا ہے۔
ژاؤ اپنی سادہ زندگی گزارنے کیلئے ماہانہ اخراجات صرف 100 یوآن (تقریباً 14 امریکی ڈالر) تک محدود رکھتے ہیں اوردن میں دو وقت کھانا کھاتے ہیں، جس میں سے ایک مفت سبزیوں پرمشتمل کھانا ٹیمپل سے حاصل ہوتا ہے۔
ان کی جھونپڑی سرخ کپڑے سے بنی ہوئی ہے اوربارش کے دوران جگہ جگہ پانی ٹپکتا ہے، مقامی افراد نے انہیں 15 کلوگرام وزنی بیگ اٹھائے اور پرانے جوتے پہنے دیکھا ہے۔
گوگل نے 40 فی صد اینڈرائیڈ فونز خطرے میں ہونے کا اعلان کر دیا
ژاؤ کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کے سماجی طرززندگی اور لگژری سفر سے وہ پریشان تھے۔ بیرون ملک تعلیم کے دوران جب ان کا پیسہ ختم ہو جاتا، وہ گھرسے رقم منگوا لیتے اورزیادہ تر رقم اپنی گرل فرینڈ پرخرچ کرتے جبکہ خود مشترکہ اپارٹمنٹ میں صوفے پرسوتے، پیرس میں کام کے دوران ژاؤ ڈپریشن کا شکارہوئے اورتین ماہ تنہائی میں ویڈیو گیمزکھیل کرگزارے۔
بعد میں انہوں نے ایک چینی ریسٹورنٹ میں برتن دھونے کی نوکری اختیار کی، جہاں روزانہ 11 گھنٹے کام کرکے جسمانی تھکاوٹ سے ذہنی سکون حاصل کررہے ہیں۔
ژاؤ کا ماننا ہے کہ سادہ زندگی اورمحنت سے انہیں حقیقی خوشی اور ذہنی سکون ملا، جبکہ مادی دولت اور عیش و آرام نے انہیں کبھی سکون نہیں دیا، یہ واقعہ چین اور دنیا کے نوجوانوں کیلئے ایک مثال بن گیا ہے کہ سادہ زندگی اورمحنت سے حقیقی اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے۔
