اسرائیلی فورسز نے دو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں قباتیہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے، جہاں دوسرے روز بھی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق فوج قباتیہ میں نام نہاد ‘دہشت گرد مراکز’ کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے اور گاؤں کے گرد مکمل گھیراؤ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی حملوں کے خلاف سخت اور بلا لچک پالیسی جاری رکھی جائے گی۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اقدامات اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔ قباتیہ کے رہائشی بلال ہنیشا کے مطابق سڑکیں ملبے سے بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کی نقل و حرکت ناممکن بنا دی گئی ہے۔
جمعے کے روز ایک 34 سالہ فلسطینی شہری نے شمالی اسرائیل میں حملہ کر کے دو افراد کو ہلاک کیا تھا۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق حملہ آور غیر قانونی طور پر اسرائیل میں مقیم تھا، جس نے گاڑی سے ایک بزرگ کو کچلنے کے بعد ایک 18 سالہ لڑکی کو چاقو کے وار سے قتل کیا۔
حملے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی ایجنسی شن بیت نے قباتیہ میں کارروائیاں شروع کیں، حملہ آور کے گھر کی تلاشی لی گئی اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے علاقے میں مزید فوج تعینات کرنے کا حکم دیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گاؤں کے داخلی راستے بند کرنے کے ساتھ گھروں کی تلاشی لی اور ایک اسکول کو عارضی حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ ایک اور مقامی شہری محند زکرنہ نے بتایا کہ انہیں بغیر کسی الزام کے کئی گھنٹے ہتھکڑی لگا کر رکھا گیا۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق اسی مدت میں فلسطینی حملوں میں درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے ہیں۔
