وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیرِ اہتمام ” پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے کردار کو خراجِ تحسین” کے عنوان سے ایک خصوصی بیٹھک کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا تھا۔
بیٹھک میں مسیحی، سکھ، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی اور “اڑان پاکستان” کے تناظر میں ملکی ترقی میں اپنے کردار پر روشنی ڈالی۔
پی سی بی نے کرکٹر حیدر علی کو عبوری طور پر معطل کردیا
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی برادریوں کی پاکستان کی تاریخ اور قومی ترقی میں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام برادریوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ “ہم نے نہ صرف مل کر ملک بنایا بلکہ اسے مضبوط بھی کیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت نہ اسلحے میں ہوتی ہے اور نہ ہی دولت کے انبار میں، بلکہ اس کے عوام کے درمیان اتحاد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ تمام پاکستانی برابر ہیں، اور ترقی ہر فرد کا حق ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔
احسن اقبال نے حکومت کے ترجیحی ترقیاتی منصوبے اڑان پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پانچ نکاتی فریم ورک یعنی برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان، ماحولیات، توانائی اور مساوات ملک گیر شمولیتی ترقی کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ایسی بیٹھک کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ ہر طبقے اور علاقے کی آواز قومی ترقی کے دھارے میں شامل کی جا سکے۔
امریکی صدر کا اضافی ٹیرف،بھارتی سٹاک مارکیٹس مندی کا شکار
انہوں نے ملک کی سلامتی و خودمختاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی، توانائی کے بحران اور دشمن کی جارحیت جیسے چیلنجز کا جرات مندی سے مقابلہ کیا ہے۔ “جب دشمن نے للکارا، ہم نے حق کی جنگ سے جواب دیا۔ ہماری مسلح افواج نے ایسا بھرپور وار کیا کہ دشمن آج بھی زخم چاٹ رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری صلاحیت کے ذریعے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ہم کمزور نہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور باہمی اشتراک عمل ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ “سبز ہلالی پرچم تلے ہم سب ایک ہیں۔ ہمیں نفرت نہیں بلکہ محبت، انصاف اور برابری کا پیغام عام کرنا ہے تاکہ ہم ایک پرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف بڑھ سکیں۔”
