ملک بھر میں واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اکاؤنٹ محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی اقدامات سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں سائبر کرمنل خواتین کے واٹس ایپ اکاوئنٹس کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔
واٹس ایپ کی بھارت میں اپنی سروس بند کرنے کی دھمکی
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہیک کرنے والے خواتین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کی ذاتی معلومات بشمول چیٹ، تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے ان کا استحصال کرتے ہیں ۔
ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ سائبر کرمنلز واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں فشنگ اور سوشل انجینئرنگ جیسے طریقے شامل ہیں۔
ایف آئی نے عوام کو حفاظتی اقدامات کر کے آپ اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ سیٹنگز میں ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو فعال کریں۔ ٹو سٹیپ ویریفکیشن ایک اضافی حفاظتی لیئر فراہم کرتا ہے جو اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔
واٹس ایپ نےچیٹ فلٹرز نامی نیا فیچر متعارف کرادیا
حفاظتی اقدامات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر متعلقہ نمبرز کے ذریعہ بھیجے گئے پیغامات، فوٹوز، ویڈیوز یا فائلز کو اوپن کرنے سے گریز کریں۔ یہ پیغامات اکثر اسپام لنکس یا فائلوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں جو آپ کے موبائل فون کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اسی طرح اپنی ذاتی معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے اپنی واٹس ایپ پرائیویسی کی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ان کو اپ ڈیٹ کریں۔ اگر آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو، فوری طور پر ایف کی ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں یا قریبی ایف آئی اے سرکل کا وزٹ کریں۔
