پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟ جسٹس منصورعلی شاہ کا چیف جسٹس کوخط

عدالتی پالیسی سازی، مشاورت کے فقدان اور اہم فیصلوں کے طریقہ کار پر تحفظات، 8 ستمبر کی جوڈیشل کانفرنس میں جواب دینے کا مطالبہ

جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط

صدر سنیارٹی طے کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے، خط میں موقف

جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ کی مدت میں توسیع کے خلاف خط

26ویں ترمیم کیس فیصلے تک توسیع نہ کی جائے، خط میں موقف

پسماندہ ممالک کو کاربن ٹیکس لگانا ہوگا،جسٹس منصور علی شاہ

عالمی ادارے کمزور ممالک کیلئے کاربن مارکیٹ کے ڈھانچے کو ازسر نو ترتیب دیں،پری بجٹ ڈائیلاگ میں اظہار خیال

حکم امتناع اور ضمانت سے معاملات حل نہیں ہوں گے، جسٹس منصور علی شاہ

ہمارے پاس ججز کم ہیں اور یہ تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے

ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا

جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس محمد علی مظہر کی شمولیت پر اعتراض، کمیٹی میں شامل ارکان اپنے کیے پر خود جج نہیں بن سکتے

موجودہ کیس کا آئینی ترمیم سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس منصور علی شاہ

کوئی آئینی سوال آئے تو ریگولر بینچ بھی سماعت کر سکتا ہے، عدالتی معاون حامد خان

پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی، جسٹس منصور علی شاہ

بینچز کے اختیارات کا کیس عدالتی حکم کے باوجود مقرر کیوں نہ ہوا؟عدالت، غلطی سے ریگولر بنچ میں لگ گیا، رجسٹرار

جسٹس منصور علی شاہ نے نئے جوڈیشل سلک روٹ کی تجویز دے دی

جوڈیشل سلک روٹ سے ساؤتھ ایشین ممالک کو منسلک کیا جائے، سیمینار سے خطاب

جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج کی ذمہ داریوں سے معذرت کر لی

جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا

آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ

جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سینئر ترین جج نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا

پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ

26ویں آئینی ترمیم بھی کلائمیٹ فنانس جیسا بڑا مسئلہ ہے، جج سپریم کورٹ

جوڈیشل کمیشن میں ایگزیکٹو کی اکثریت سے سیاسی تعیناتیوں کا خطرہ بڑھ گیا،جسٹس منصور علی شاہ

آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ اقلیت اور ایگزیکٹو اکثریت میں ہے،رولز میکنگ کمیٹی کے سربراہ کو خط لکھ دیا

بچوں کو بھی فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ

ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم سنتے نہیں،ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہو گا

ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل سیاسی ٹرائل کی کلاسک مثال ہے، جسٹس منصور علی شاہ

آمرانہ دور میں اصل طاقت جج کا عہدے پر فائز رہنا نہیں آزادی کو قائم رکھنا ہے ،صدارتی ریفرنس میں اضافی نوٹ

آئینی بینچ کے بیٹھنے تک کیا ہم غیر آئینی ہیں ؟ جسٹس منصور علی شاہ

ہم خود فیصلہ کر دیتے ہیں تو ہمیں کون روکنے والا ہے؟ نظر ثانی آنے پر کہہ دیں گے ہمارا دائرہ اختیار ہے ، ریمارکس

جسٹس قاضی فائز نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے بجائے مزید دروازے کھول دیئے ، جسٹس منصور

ساتھی ججز میں تفریق پیدا کی ، عدلیہ میں مداخلت پر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے رکھا ، رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط

تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی،جسٹس منصور کا چیف جسٹس کو ایک اور خط

ترمیمی آرڈیننس پر فل کورٹ بیٹھنے تک خصوصی بینچ کا حصہ نہیں بنوں گا، جسٹس منصور علی شاہ

سپریم کورٹ نے برطرف ملازمین بحالی کی درخواستیں آئینی بینچز کو بھیج دیں

اس کیس میں آئینی سوال ہے ، جسٹس منصور علی شاہ کا وکیل سے مکالمہ

چیف جسٹس چیمبر ورک پر چلے گئے ، جسٹس منصور کا بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں منتقل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ چیمبر ورک کے دوران فیصلے لکھیں گے

ٹاپ اسٹوریز

WhatsApp