یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام ہو چکا سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں ، سپریم کورٹ

پارلیمنٹ نے جو کرنا ہے کرے وہ ان کا پالیسی کا معاملہ ہے، ہم نے صرف اس کیس کی حد تک دیکھنا ہے ، جسٹس جمال مندوخیل

کلبھوشن ہو یا کسی اور ملک کا شہری ،کونسلر رسائی سب کیلئے ہونی چاہئے ، سپریم کورٹ

ویانا کنونشن کے مطابق کلبھوشن کے معاملے میں بھارت سینڈنگ اسٹیٹ ہی ہے ، جسٹس مظہر کے ریمارکس

دہشتگردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے ، عدالت کا نہیں ، سپریم کورٹ

فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں پھر یہ بتا دیں ، جسٹس جمال مندوخیل کا وکیل سے مکالمہ

مجرم کو سزا ہونی چاہئے ، ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ، کیا فرق پڑتا ہے؟جسٹس جمال مندو خیل

کیا اٹارنی جنرل ایسی انڈر ٹیکنگ دے سکتے ہیں جو قانون میں نہ ہو ، ریمارکس

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی ، سپریم کورٹ

لگتا ہے انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں ، ریمارکس

تمام 5 ججز متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا ، جسٹس جمال مندوخیل

آرمی ایکٹ میں تو ایف آئی آر کا تصور ہی نہیں ، سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران ریمارکس

آرمی ایکٹ بنانے کا مقصد کیا تھا یہ سمجھ آ جائے تو آدھا مسئلہ حل ہو جائے گا ، سپریم کورٹ

آرٹیکل 245 والی دلیل مان لیں تو فوج اپنے اداروں کا دفاع کیسے کریگی؟ ، آئینی بینچ کے ریمارکس

ٹاپ اسٹوریز

WhatsApp