ججز ایک دوسرے کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے ، سپریم کورٹ
سابق ڈپٹی رجسٹرار کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری ، ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کالعدم
الیکشن کمیشن نے 41 میں سے 39 اراکین کی حد تک غلطی کی، جسٹس جمال مندوخیل
گیارہ ججز نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو آزاد قرار دینے کا فیصلہ غیر قانونی تھا،وکیل فیصل صدیقی
جمہوریت کیلئے ہی سہی ، کیا جج آئین ری رائٹ کر سکتے ہیں ؟ جسٹس مظہر
پارٹی ٹکٹس مسترد ہونے پر ن لیگ کے لوگ بھی سینیٹ کا الیکشن آزاد لڑے تھے ، جسٹس جمال مندوخیل
آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں رہتے تو آج مسئلہ نہ ہوتا ، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل
انتخابی نشان نہ ہونے سے سیاسی جماعت ختم نہیں ہوتی ، مخصوص نشستوں کے کیس میں ریمارکس
حلف کے الفاظ دیکھ کر ڈر لگتا ہے ، سمجھتا ہوں ہم ججز انصاف نہیں کرتے ، جسٹس جمال مندوخیل
انصاف اللہ دیتا ہے ہم تو بس فیصلہ دیتے ہیں ، آئین میں درج حقوق سب کو ملنے چاہئیں
یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام ہو چکا سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں ، سپریم کورٹ
پارلیمنٹ نے جو کرنا ہے کرے وہ ان کا پالیسی کا معاملہ ہے، ہم نے صرف اس کیس کی حد تک دیکھنا ہے ، جسٹس جمال مندوخیل
سوال اتنا ہے کہ فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
اگر عدالت کہا جاسکتا ہے تو دوبارہ آرٹیکل 175 پڑھیں، جج کے ریمارکس
ملٹری کورٹس کے ٹرائل کا ریکارڈ تو ہم بھی نہیں دیکھ سکتے ، شکایت کنندہ کیسے کیس سن سکتا ہے ؟ جسٹس جمال مندوخیل
حکومت سویلینز کو اپیل کا حق دے گی تو کونسا مسئلہ پیدا ہو گا ، جسٹس مسرت ہلالی
سیاست کر لیں یا وکالت ، حامد خان کی عدم حاضری پر سپریم کورٹ کے ریمارکس
کیا فائز عیسیٰ کو عمران خان کے مقدمات سننے سے روکنے کا کیس غیر موثر نہیں ہو گیا ؟ جسٹس مظہر ، معاملے کو حل تو کرنا پڑیگا ، جسٹس جمال
دہشتگردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے ، عدالت کا نہیں ، سپریم کورٹ
فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں پھر یہ بتا دیں ، جسٹس جمال مندوخیل کا وکیل سے مکالمہ
ہم یہاں حکومتیں چلانے کیلئے نہیں بیٹھے، جسٹس جمال مندوخیل
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق کیس کی سماعت کی
کلاز ڈی کے ہوتے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل ہو سکتا ہے ؟ یہی سوال دماغ میں اٹکا ہے ، جسٹس جمال مندوخیل
جب سپریم کورٹ بیٹھ جائے تو مکمل انصاف کا اختیار بھی استعمال کر سکتی ہے ، ریمارکس
ہمارے آرمی ایکٹ جیسی سیکشن ٹو ڈی کیا دنیا میں کہیں ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل کا سوال
کوئی شخص جو فوج کا حصہ نہ ہو صرف جرم کی بنیاد پر فوجی عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے؟
جب تک الزام نہ ہو تو آرمی ایکٹ کا مرتکب نہیں کہا جا سکتا، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
جتنی شفاف تحقیقات فوج میں ہوتی ہیں اتنی کہیں اور نہیں ہوتی، وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث
آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل
آئینی بینچ، ملٹری کورٹس میں سویلینز ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی
ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم، اسمبلی بحال،تحریک عدم اعتماد پر پرسوں ووٹنگ ہو گی
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس نئے وزیراعظم کے انتخاب تک ملتوی نہیں کیا جائے گا، عدالت کا فیصلہ
’یہ تاثر غلط ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے واش رومز میں کیمرے نصب تھے‘
جسٹس جمال مندوخیل نے یونیورسٹی کے وکیل سے کہا آپ نے کسی کی مداخلت برداشت کی تو آپ سے پوچھا جائے گا۔

