قومی کمیشن برائے وقار نسواں اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے معاہدہ طے پا گیا

nilu far

قومی کمیشن برائے وقار نسواں (NCSW) اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) نے پاکستانی خواتین کو بااختیار بنائے جانے کیلئے معاہدہ کر لیا۔

اسلام آباد میں پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (PPAF) اور قومی کمیشن برائے وقار نسواں (NCSW) سٹریٹیجک شراکت داری کا حصہ بن گئے۔ قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار اور سی ای او پی پی اے ایف نادر گل بڑیچ نے ایل او آئی پر دستخط کیے۔ اس تقریب کا حصہ ماہرین تعلیم، میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی بنے۔

190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور

دونوں اداروں کے سربراہان نے اتفاق کیا کہ یہ معاہدہ پاکستانی خواتین کو برابری کے حقوق کی فراہمی اور معاشی با اختیار بناے جانے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس اتحاد کے ذریعے خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی مشترکہ کوششوں کے طور پر دونوں ہی ادارے پارٹنر آرگنائزیشن دختران پاکستان کے ہمراہ مختلف پروگراموں کے ذریعے خواتین کے آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ ان کی سماجی اور اقتصادی بااختیاریت کو بہتر اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے عملی جامع پہناتے ہوئے صنفی مساوی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے خواتین کی پارلیمانی کے ساتھ مسلسل رابطوں اور ہم آہنگی کے ذریعے اقتصادی شراکت میں رکاوٹوں کو دور کرنے، قوانین کے قیام، ان پر عمل داری کی کوششیں کریں گے۔

بین الصوبائی اور بین الوزارتی مکالموں کے ذریعے دونوں تنظیموں کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون پر مبنی تحقیقی اقدامات غربت میں کمی، اقتصادی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، شراکتی ترقی، اور موسمیاتی تبدیلی کے ردعمل میں خواتین کی شمولیت کے راستے تلاش کریں گے۔

چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیار نے پاکستان میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے اس تعاون کی تعریف کی جو کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور ایک روادار اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے لازمی شرط ہے۔

انہوں نے اقتصادی طور پر مستحکم پاکستان میں خواتین کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے نجی اور سرکاری اداروں کی ضرورت کا اظہار کیا کہ وہ صنفی مساوات پر قومی اور صوبائی پالیسیوں کو نافذ کریں تاکہ صنفی ذمہ دار اداروں کو یقینی بنایا جا سکے جو مردوں اور عورتوں کو ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کریں۔

نیلوفر بختیار نے روشنی ڈالی کہ پی پی اے ایف اور این سی ایس ڈبلیو کے درمیان یہ اسٹریٹجک تعاون صنفی مساوات کو آگے بڑھانے، خواتین کو بااختیار بنانے اور جامع ترقی کو فروغ دینے کے پاکستان کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جو اپنی خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کرے اور دیرپا امن اور خوشحالی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ این سی ایس ڈبلیو پاکستان کی خواتین کو با صلاحیت کیے جانے کی تمام تر کوششیں بروئے کار لانے کے لیے جستجو کررہا ہے۔

ملک بھر کے تمام چیمبر آف کامرس میں خواتین کی فلاح اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے سمیت بہترمارکیٹ تک رسائی میں معاونت اور ٹریننگ کے انکیوبیشںن سنٹر کا قیام، تعلیمی اداروں میں بچیوں کو ہنر سے لیس کیے جانے اور عملی زندگی میں انہیں معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر عملدرآمد کے لیے بھی بھرپور آواز اٹھاے جانے کے علاؤہ عملی طور پر صوبائی اور وفاقی حکومت اور نمائندوں سے مستقل رابطے بھی جاری ہیں۔

آئی ایم ایف کا جولائی میں بجلی فی یونٹ 5 کی بجائے 7 روپے کرنے کا مطالبہ

سی ای او پی پی اے ایف نادر گل بڑیچ نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ایک زیادہ مساوی معاشرے کی تشکیل میں اجتماعی کارروائی کی تبدیلی کی طاقت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے پاکستان بھر میں خواتین کی زندگیوں کو سنوارنے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو تلاش کرنے کے مساوی مواقع اور امکانات کے ذریعے متعین مستقبل کو پروان چڑھانے، ٹھوس تبدیلی لانے کے لیے شراکت داری کی صلاحیت کے بارے میں گہری امید کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک PPAF نے معاشرے کی خواتین میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے 94,000 خواتین کے کمیونٹی ادارے تشکیل دیے ہیں، جو تنازعات کے حل اور قیام امن کے لیے ان کی مدد کر رہے ہیں۔

خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور پائیدار معاش کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم نے 128,400 پیداواری اثاثے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو گرانٹس، 1,738,000 بلاسود قرضے، اور 222,000 خواتین کو پیشہ ورانہ/انٹرپرائز ڈویلپمنٹ کی تربیت فراہم کی ہے۔


متعلقہ خبریں