سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ملک میں توانائی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے فیصلے اکثر فوری طور پر کرنا پڑتے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں قیمتیں تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے باعث QatarEnergy سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے نیا ضابطہ، اویس لغاری کے سخت احکامات
محمد اورنگزیب کے مطابق ایل این جی کا جو کارگو پہلے تقریباً 25 ملین ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا، اب اس کی قیمت بڑھ کر تقریباً 100 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے توانائی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پانچ ریفائنری پلانٹس کام کر رہے ہیں جو کافی پرانے ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو کروڈ آئل فراہم کر رہا ہے اور اس سلسلے میں قیمتوں میں کچھ رعایت بھی دی گئی ہے۔
اجلاس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اضافے کا فائدہ آخر کس کو پہنچایا جا رہا ہے، ملک کا غریب طبقہ 55 روپے تک کے اضافے کا بوجھ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
