لیبیا: موبائل شاپ کو 16 سال بعد پارسل موصول، دکاندار حیران

libya

طرابلس: لیبیا میں ایک موبائل شاپ پر 16 سال بعد پارسل موصول ہو گیا۔ دکاندار پرانے موبائل کا پارسل دیکھ کر اپنی ہنسی نہ روک دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک موبائل شاپ پر اس وقت حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملا۔ جب دکان پر اچانک ایک ایسا پارسل پہنچا جو 16 برس قبل روانہ کیا گیا تھا۔

پارسل کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس میں موجود موبائل فونز 2010 کے دور کے نوکیا ماڈلز ہیں۔ جنہیں دیکھ کر دکاندار اپنی ہنسی نہ روک سکا۔

رپورٹ کے مطابق یہ موبائل فونز 2010 میں آرڈر کیے گئے تھے۔ تاہم 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی، ریاستی نظام کی تباہی، کسٹمز کی بندش اور سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث یہ کھیپ برسوں تک مختلف گوداموں میں پڑی رہی۔

یہ وہ دور تھا جب نوکیا کے بٹن والے فونز موبائل مارکیٹ پر راج کرتے تھے۔ اور میوزک ایڈیشن فون رکھنا ایک اسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا۔ حالات کی خرابی کے باعث یہ پارسل وقت کی گرد میں گم ہو گیا۔ جو اب 2026 میں اچانک اپنی منزل تک پہنچ گیا۔

دکاندار نے پرانی پیکنگ کھول کر موبائل فونز دیکھے۔ تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ فون نہیں بلکہ کسی میوزیم کی اشیا لگتے ہیں۔ کھیپ میں نوکیا میوزک ایڈیشن اور نوکیا کمیونی کیٹر جیسے اس وقت کے مشہور اور مہنگے ماڈلز بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی شہری کی ڈونلڈ ٹرمپ جیسی نقل، سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی

پارسل کھولنے کا منظر ویڈیو میں محفوظ کیا گیا۔ جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فون بھیجنے والا اور وصول کرنے والا دونوں طرابلس ہی میں ہی موجود تھے۔ اور ان کے درمیان فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی تھا۔ مگر بدامنی اور ٹوٹے ہوئے نظام نے اس مختصر سفر کو 16 سالہ انتظار میں بدل دیا۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp