راک موسیقی کا ایک عہد تمام، باب وئیر انتقال کر گئے


لیجنڈری راک بینڈ گریٹفل ڈیڈ کے شریک بانی اور ردھم گٹارسٹ باب وئیر (Bob Weir) 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باب وئیر کو جولائی میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ پھیپھڑوں سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے درمیان تھے، تاہم موت کے وقت اور مقام کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

کینسر کے علاج کے آغاز کے چند ہفتوں بعد ہی باب وئیر نے سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ پارک میں تین روزہ کنسرٹس میں پرفارم کیا، جہاں انہوں نے موسیقی کے میدان میں اپنے 60 سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ رولنگ اسٹون میگزین کے مطابق یہی ان کی آخری عوامی لائیو پرفارمنس ثابت ہوئیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Bobby Weir (@bobweir)

باب وئیر اور لیڈ گٹارسٹ جیری گارسیا گریٹفل ڈیڈ کے فرنٹ فیس سمجھے جاتے تھے۔ وئیر نے بینڈ کے کئی مشہور گانوں میں مرکزی آواز دی، جن میں Truckin’ شامل ہے، جبکہ Sugar Magnolia، Playing in the Band اور Jack Straw جیسے معروف گانے بھی انہوں نے تحریر کیے۔

نوجوانی میں ’’بابی‘‘ کے نام سے پہچانے جانے والے باب وئیر وقت کے ساتھ ایک منفرد اور ہمہ جہت نغمہ نگار کے طور پر ابھرے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے انہیں ’’راک موسیقی کا شاید سب سے عظیم اور غیر معمولی ردھم گٹارسٹ‘‘ قرار دیا تھا۔

1995 میں جیری گارسیا کی وفات کے بعد باب وئیر نے سولو کیریئر جاری رکھا اور مختلف ادوار میں گریٹفل ڈیڈ کے باقی اراکین کے ساتھ ری یونین پروجیکٹس میں بھی حصہ لیا۔ وہ 2014 میں بننے والی دستاویزی فلم The Other One: The Long, Strange Trip of Bob Weir کا بھی موضوع رہے۔

باب وئیر 16 اکتوبر 1947 کو کیلیفورنیا میں پیدا ہوئے۔ 16 برس کی عمر میں ان کی ملاقات جیری گارسیا سے ہوئی، جس کے بعد دونوں نے وارلاک بینڈ بنایا جو بعد ازاں گریٹفل ڈیڈ کہلایا۔ بینڈ 1965 سے 1995 تک متحرک رہا اور تجرباتی موسیقی اور طویل لائیو پرفارمنس کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہوا۔

2017 میں باب وئیر کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا خیرسگالی سفیر بھی مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کام کی حمایت کی۔ وہ اپنی اہلیہ ناتاشا مونٹر اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp