لندن: برطانیہ میں ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو شدید تنقید اور ممکنہ پابندی کا سامنا ہے۔
برطانیہ میں ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) شدید تنقید اور ممکنہ پابندی کی زد میں آ گیا۔ پلیٹ فارم سے منسلک ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ پر خواتین اور بچوں کی تصاویر کو نازیبا انداز میں تبدیل کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ڈیپ فیک مواد کو انتہائی گھناؤنا اور ناقابل برداشت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں اور خواتین کے تحفظ کی مکمل ذمہ داری لینا ہو گی۔ اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق برطانیہ میں نافذ آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو گیا کہ پلیٹ فارم نقصان دہ مواد روکنے میں ناکام رہا ہے۔ تو اس پر بھاری جرمانہ یا پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فحش مواد کی تیاری اور تشہیر، انڈونیشیا کا گروک پر پابندی کا فیصلہ
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پرائیویسی، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ بچوں سے متعلق ڈیپ فیک مواد کو ایک سنگین جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

