ایران میں حالات کشیدہ، متعدد افراد ہلاک، انٹرنیٹ سروسز متاثر

ایران میں حالات کشیدہ، متعدد افراد ہلاک، انٹرنیٹ سروسز متاثر

ایران ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو سڑکوں پر احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شام سے ملک میں قومی سطح پر مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو حکومت کی جانب سے احتجاجات کو کنٹرول کرنے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش نے بھارت کیلئے ویزوں کا اجرا روک دیا

یہ بلیک آؤٹ اس وقت نافذ کیا گیا جب تہران اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر کے حکومت مخالف نعرے لگائے۔ قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے کے بعد دارالحکومت کے کئی محلے مکمل طور پر مظاہرین کے قبضے میں تھے۔

شہری علاقوں کی اہم سڑکیں بند تھیں، اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم جاری رہا، جس کے دوران سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دیے۔ اسدی نے کہا کہ ایران میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد ختم کر دیا ہے، اور خاص طور پر مزدور طبقہ اور نچلی متوسط طبقے اب روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

احتجاج دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی گراوٹ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے، لیکن اب یہ مطالبات صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی تبدیلی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

73 سالہ بزرگ سیاستدان کی نوجوان لیڈر کے پیرچھونے کی ویڈیو نے کھلبلی مچا دی

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مظاہرے تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، اور تجارتی ہڑتالوں نے بھی معاشی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات سامنے آ رہے ہیں؛ صدر مسعود پزشکیان نے سکیورٹی فورسز کو تحمل کا حکم دیا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور صورتحال قابو سے باہر نظر آ رہی ہے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp