لاہور میں پنجاب پولیس آرڈر 2002ء میں اہم ترمیم کر دی گئی ہے جس کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے منظوری دے دی ہے۔
ترمیمی قانون کے تحت فسادات اور پرتشدد ہجوم میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مؤثراندازمیں کنٹرول کیا جا سکے۔
ترمیم کے مطابق فسادات میں ملوث افراد کودس سال تک قید اورپانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
اس کے علاوہ پرتشدد ہجوم کے رویے کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دے دیا گیا ہے اور ایسے مقدمات کو ناقابلِ ضمانت قراردیا گیا ہے، جس سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو فوری کارروائی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
قانون میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پرتشدد احتجاج سے متعلق درج ہونے والے مقدمات کا ٹرائل سیشن کورٹ میں کیا جائے گا تاکہ مقدمات کا جلد اور مؤثر فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔
پنجاب میں جعلی مقدمات کا راستہ بند، ضلعی عدالتوں میں بائیو میٹرک لازمی
حکام کے مطابق اس ترمیم کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان سے بچانا اور امن عامہ کو یقینی بنانا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس آرڈرمیں کی گئی یہ ترمیم پولیس کے کردارکومزید مضبوط بنائے گی اور پرتشدد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی میں مددگارثابت ہوگی۔
حکومت پنجاب کے مطابق نئے قانون پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور صوبے بھر میں اس سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔

