ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مسلسل احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ماہانہ الاؤنس فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنا اور روزمرہ ضروریات کی خریداری میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا امریکا کی دھمکی پر ردعمل آگیا
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں بتایا کہ ہر ایرانی شہری کو ماہانہ 10 لاکھ تومان دیے جائیں گے، جو تقریباً سات امریکی ڈالر کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم مسلسل چار ماہ تک شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ الاؤنس کی فراہمی بلا تفریق تمام شہریوں کے لیے ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ حکومت کو عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے اور موجودہ حالات میں فوری ریلیف دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کے ذریعے شہری اشیائے ضروریہ خرید سکیں گے اور مہنگائی کے اثرات کسی حد تک کم ہوں گے۔
ایرانی کرنسی کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوگئی
واضح رہے کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ جوہری پروگرام کے باعث امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں نے ایرانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد عوامی بے چینی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اتوار کو آٹھویں روز میں داخل ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرے ملک کے 40 مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مغربی علاقوں میں درمیانے درجے کے احتجاج ریکارڈ کیے گئے۔
امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی ، امریکا نے مزید 55 ایرانی شہریوں کو بیدخل کر دیا
احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے معاشی ریلیف پیکج کو اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

