سعودی عرب کی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے پارسل ڈیلیوری سروس کے لیے نیشنل ایڈریس نظام ’’عنوان الوطنی‘‘ پر باضابطہ عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق پارسل ڈیلیوری سے منسلک تمام کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ نیشنل ایڈریس کے نظام کی مکمل پابندی کریں اور کسی ایسی پوسٹل یا پارسل شپمنٹ کو قبول یا منتقل نہ کریں جس میں صارف کا نیشنل ایڈریس درج نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے نیشنل ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے جنوری 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، جس کے بعد اب اس پر عملی طور پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پارسل اور پوسٹل ڈیلیوری سروس کو مزید مؤثر، منظم اور معیاری بنانا ہے تاکہ ترسیل کے دوران تاخیر، غلط پتے یا دیگر انتظامی مسائل سے بچا جا سکے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پارسل ڈیلیوری کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ صارفین سے لازمی طور پر نیشنل ایڈریس حاصل کریں۔ اگر کوئی کمپنی اس نظام کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ابتدائی مرحلے میں اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جو 5 ہزار سعودی ریال سے لے کر 50 ہزار سعودی ریال تک ہو سکتا ہے۔
ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے مطابق ’’عنوان الوطنی‘‘ مختلف سرکاری ایپس کے ذریعے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان ایپس میں ابشر، توکلنا، صحتی اور سبل شامل ہیں، جہاں صارفین اپنے نیشنل ایڈریس کی تفصیلات دیکھ اور اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے صارفین کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ صارفین کو بھی لازم ہوگا کہ وہ پوسٹل یا پارسل ڈیلیوری سروس حاصل کرتے وقت اپنے نیشنل ایڈریس کی درست معلومات متعلقہ کمپنی کو فراہم کریں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں نیشنل ایڈریس سسٹم کو مختلف سرکاری اور نجی خدمات سے منسلک کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ڈیلیوری سروسز بلکہ مجموعی طور پر ڈیجیٹل گورننس اور عوامی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

