پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کی جانب سے مبینہ حملے کے واقعے کے بعد پنجاب بار کونسل نے ان کے وکیل میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل ذبیح اللہ ناگرہ نے بتایا کہ کراچی کی سٹی کورٹ میں پیش آنے والے واقعے کو مزید کارروائی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
رجب بٹ کا طلاق، دوسری شادی اور ٹک ٹاک آمدن پر بیان سامنے آ گیا
ذبیح اللہ ناگرہ کے مطابق رجب بٹ نے میاں علی اشفاق کو اپنا وکیل مقرر کر رکھا تھا اور وہ وکلا کی ہڑتال کے دوران رجب بٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، اس دوران مقامی وکلا کے ساتھ ان کے رویے کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد ازاں ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو گئی۔
پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ میاں علی اشفاق نے نجی سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ بار میں داخل ہونے کی کوشش کی، جو وکلا کے ضابطۂ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے طرزِ عمل کے باعث وکلا کے درمیان اختلافات اور انتشار پیدا ہوا۔
ان وجوہات کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا وکالت لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کراچی سٹی کورٹ کے اندر یوٹیوبر رجب بٹ پر ہونے والے حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رجب بٹ پر تشدد میں ملوث وکلا کیخلاف بڑی کارروائی
ایچ آر سی پی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رجب بٹ عبوری ضمانت کے حصول کے لیے سٹی کورٹ کراچی میں پیش ہوئے تھے۔ کمیشن نے عدالتی احاطے میں اس نوعیت کے تشدد کو قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

