2025 کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، جہاں وسطی ایشیا، ساحل افریقہ اور شمالی یورپ نے اپنی تاریخ کا گرم ترین سال دیکھا۔
یورپی موسمیاتی پروگرام کوپرنیکس کے اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کے تجزیے کے مطابق گزشتہ 12 ماہ عالمی سطح پر ریکارڈ کے لحاظ سے تیسرا گرم ترین عرصہ رہا، جبکہ کئی خطوں میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین رہی۔
تفصیلی تجزیے کے مطابق 2025 میں 70 سے زائد ممالک میں 120 ماہانہ درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔ وسطی ایشیا کے تمام ممالک نے سالانہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
تاجکستان میں درجہ حرارت معمول سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہا، جو دنیا میں سب سے زیادہ غیر معمولی اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔ قازقستان، ایران اور ازبکستان میں بھی درجہ حرارت دو سے تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، آصف علی زرداری
افریقہ کے ساحلی خطے ساحل میں شامل ممالک مالی، نائجر، نائجیریا، برکینا فاسو اور چاڈ میں بھی غیر معمولی گرمی دیکھی گئی۔ نائجیریا میں گزشتہ بارہ ماہ تاریخ کے گرم ترین ثابت ہوئے، جبکہ دیگر ممالک میں یہ عرصہ گرم ترین برسوں میں شامل رہا۔
ماہرین کے مطابق 2015 کے بعد سے شدید گرمی کے واقعات کے امکانات تقریباً دس گنا بڑھ چکے ہیں۔
یورپ میں بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ سوئٹزرلینڈ اور بلقان کے کئی ممالک میں موسمِ گرما کے دوران درجہ حرارت معمول سے دو سے تین ڈگری زیادہ رہا۔ اسپین، پرتگال اور برطانیہ نے بھی شدید گرمی کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں جنگلاتی آگ اور پانی کی قلت جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ شمالی یورپ اگرچہ جون کی شدید گرمی سے کسی حد تک محفوظ رہا، تاہم وہاں خزاں غیر معمولی طور پر گرم رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حدت میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں موسمی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات خاص طور پر غریب اور تنازعات کا شکار ممالک پر زیادہ پڑیں گے۔

