پی آئی اے نجکاری، لکی سیمنٹ کنسورشیم بولی جمع کرانے کے لیے تیار

PIA

پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ لکی سیمنٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے جاری عمل میں کنسورشیم کے حصے کے طور پر شرکت کی منظوری دے دی ہے۔

لکی سیمنٹ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے نوٹس کے مطابق کنسورشیم نے تفصیلی ڈیو ڈیلیجنس کا عمل اطمینان بخش طور پر مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد بورڈ نے مالی بولی جمع کرانے کی اجازت دے دی ہے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری،پاورڈویژن کا اہم بیان آ گیا

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے کنسورشیم کا حصہ ہوتے ہوئے مطلوبہ ارنسٹ منی کی ادائیگی، مالی بولی جمع کرانے اور نجکاری کمیشن کی جانب سے طے کردہ تمام شرائط اور رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کی منظوری دی ہے، تاہم یہ فیصلہ ٹرانزیکشن دستاویزات کو حتمی شکل دیے جانے سے مشروط ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اس کنسورشیم میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری مسابقتی بولی کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس کے لیے مالی بولیاں 23 دسمبر 2025 کو طلب کی گئی ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل شفافیت اور میرٹ کے تحت ہوگا، جبکہ بولی کا عمل قومی ٹیلی وژن پر براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

لکی سیمنٹ کے مطابق یہ ٹرانزیکشن اس شرط سے مشروط ہے کہ کنسورشیم کامیاب بولی دہندہ قرار پائے اور تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے درکار منظوری حاصل کی جائے۔

گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار فریقوں کو پری کوالیفائی کیا تھا، جن میں لکی سیمنٹ کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن کنسورشیم، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور ایئر بلیو لمیٹڈ شامل ہیں۔

پی آئی اے خریدنے والے کو نئے جہاز کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا، سیکریٹری نجکاری کمیشن

واضح رہے کہ حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات اور فنڈز کے حصول کے لیے پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش میں ناکام رہی تھی، جب صرف ایک بولی موصول ہوئی تھی جو مقررہ کم از کم قیمت سے کہیں کم تھی۔ اس وقت بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے 60 فیصد حصص کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی، جبکہ نجکاری کمیشن کی کم از کم توقع 85 ارب روپے سے زائد تھی۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp