عالمی فیشن انڈسٹری کا مجموعی حجم $3 ٹریلین سے تجاوز کر گیا ہے، تاہم پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو ملک کی برآمدات میں موجود امکانات کے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) ملک کا پہلا ڈیزائن اور ای‑کامرس سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرے گا، جس پر Rs241 ملین لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ جون 2028 تک مکمل ہونے امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ڈرامہ ’جمع تقسیم‘ کی آخری قسط نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی
حکام اور صنعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈیزائن پر مبنی برآمدات کو فروغ دینا اور پاکستانی ڈیزائنرز کو عالمی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔
پروجیکٹ کے تحت جدید ڈیزائن میتھڈولوجیز، ڈیجیٹل پورٹلز اور آن لائن ہبز کے قیام کے ذریعے مقامی ڈیزائنرز اور آرٹسنز کو بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ براہِ راست منسلک کیا جائے گا۔
کرسٹیانو رونالڈو ہالی ووڈ فلم فاسٹ اینڈ فیوریس کی کاسٹ میں شامل
ماہرین کے مطابق ای‑کامرس کی تربیت فراہم کرنے سے نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیزائنرز اور آرٹسنز کی مالی خود انحصاری میں بھی بہتری آئے گی، جس سے پاکستان عالمی فیشن انڈسٹری میں اپنی حصہ داری بڑھا سکے گا۔

