اکشے کھنہ کی بے نظیر اور زرداری کے ساتھ تصویر دھریندر تنازعے کے دوران وائرل

اکشے کھنہ کی بے نظیر اور زرداری کے ساتھ تصویر دھریندر تنازعے کے دوران وائرل

پاکستان مخالف بھارتی فلم دھریندر تنازعے کے دوران اکشے کھنہ کی مرحوم سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلم کے ٹریلر میں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور پیپلز پارٹی کے قائدین کی غیر منظور شدہ تصاویر اور پارٹی کے جھنڈے دکھائے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر کافی ردعمل سامنے آیا ہے۔

چوہدری اسلم کی اہلیہ کا فلم دھریندر پر سخت مؤقف سامنے آ گیا

پی پی پی کے کارکن محمد عامر نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فلم کے ڈائریکٹر، پروڈیوسرز اور اداکاروں کے خلاف غیر قانونی استعمال اور بدنامی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو، پارٹی جھنڈے اور جلسوں کی ویڈیوز کو فلم میں شامل کرنے کے لیے قانونی اجازت ضروری تھی۔

اسی دوران، سوشل میڈیا پر ایک نایاب پرانی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں سابق پاکستانی کرکٹ کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کو بالی ووڈ کی لیجنڈ اداکارہ ریکھا اور اداکار ونود کھنہ کے ساتھ 1989 میں ایک چیریٹی ایونٹ میں رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اکشے کھنہ کی فلم دھریندر میں ان کے رقص کا انداز، والد ونود کھنہ کے اسی انداز کے قریب محسوس ہوتا ہے، جس سے ویڈیو کے حوالے سے دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان مخالف بھارتی فلم ’دھریندر‘ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ وائرل تصویر نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، خاص طور پر اس وقت جب فلم کی ریلیز نے دونوں ممالک میں سیاسی حساسیت کو بڑھایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دھریندر پاکستان کے سیاسی پس منظر اور عوامی حالات کو منفی انداز میں پیش کر رہی ہے، جس سے شخصیات اور عوام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلم میں استعمال ہونے والی تمام سیاسی تصاویر اور مواد کے لیے قانونی اجازت نامہ ہونا چاہیے تھا۔ عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیر مجاز مواد کے استعمال سے پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف غلط تاثر پھیل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دھریندر کے سبب پیدا ہونے والا یہ سوشل میڈیا طوفان دونوں ممالک میں فلم کے اثرات اور سیاسی حساسیتوں پر بحث کو مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ شائقین اور ناقدین دونوں ہی اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ تاہم، اس تصویر کے پس منظر اور حقیقی حقائق ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp