مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں جاری حملے کسی سے مخفی نہیں۔
کنونشن سینٹر اسلام آباد میں قومی علما مشائخ کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں مختلف مکتبہ فکر کے علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ہمارا ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے، سیاسی و عسکری قیادت اکٹھے ہو کر چل رہے ہیں، ہماری فوج حرمین شریفین کی محافظ بھی ہے۔
سربراہ جامعہ رشید مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری فوج کو غزوہ ہند کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس لیے ہمیں اپنی فوج کو ہر صورت میں سپورٹ کرنا چاہیے، فتنہ الخوارج کو ختم کرنے کیلئے علما کرام کی مدد کی بہت ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خارجی مذہب کی بنیاد پر دہشتگردی کرتے ہیں، علما افغانستان کو تنبیہ کریں کہ اسلام کے نام پر پاکستانیوں کا خون نہ بہائے، فغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو بھارت اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو یک زبان ہو کر افوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ مدارس کے30 لاکھ طالب علم ایک حکم کے منتظر ہیں، مئی میں پاکستان کو فتح اللہ تعالیٰ کی مددسے حاصل ہوئی، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے امن کو اپنے امن کے مترادف سمجھا ہے اور کبھی بھی پاکستان سے افغانستان میں دہشتگردی کی سرگرمی نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس افغانستان سے پاکستان میں جاری حملے کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعلامیے کے ذریعے امن کے پیغام کو واضح کریں اور اس پر عملی طور پر عملدرآمد کروائیں۔
مرکزی جنرل سیکرٹری شیعہ علماء کونسل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ بنیان المرصوص دنیا میں ہماری عزت اور شرف کا باعث بنا ہے، پاک فوج کے شہدانے ملک کی خاطر جانیں قربان کیں، پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں 24 جنوری کو عام انتخابات کی منظوری
علامہ ضیاء اللہ شاہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے معرکہ حق میں فتح حاصل کی، کسی نام نہاد سیاست دان کو پاک فوج کے کسی سپاہی کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پیر حسن حسیب الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ کو عزت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

