انڈونیشیا کے صدر کو نشان پاکستان کے ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔
ایوان صدر میں خصوصی اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعاون کے 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
قبل ازیں صدرمملکت آصف زرداری اور انڈونیشیا کے صدر کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں تاریخی تعلقات پر گفتگو ہوئی ،دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اقدار اور دیرینہ خیرسگالی پر مکمل اتفاق کیا۔
پاکستان اور انڈونیشیا نے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے پربھی اتفاق کیا، صدر پاکستان نے سوماترا کے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
دونوں صدور نے بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان اور انڈونیشیا نے مستقبل کی شراکت داری کو جامع ترقی کے اصولوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوطرفہ تجارت میں اضافے پر اطمینان، تجارت میں توازن اور تنوع پر زور دیا گیا،مشترکہ تجارتی کمیٹی کو کاروباری روابط بڑھانے کا مؤثر فورم قرار دیا گیا۔
انڈونیشین صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد ، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا
آئی ٹی، زراعت، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔
دفاعی تعاون مضبوط بنانے، تربیت اور مشترکہ پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر صدر پاکستان نے انڈونیشیا کے صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا،بعدازاں انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔

