اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات پر اتفاق نہیں ہو سکا، شاہ محمود قریشی

پی ٹی آئی کو کمزور ملکی معیشت ورثے میں ملی، وزیر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کے درمیان مذاکرات کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمارا پی ڈی ایم کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا۔ ہماری دوسری نشست کے دوران 33 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہم نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ لوگوں کو گرفتار نہ کیا جائے اور مذاکرات ساز گار ماحول میں ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری نشست کے خاتمے کے بعد ہم واپس لاہور پہنچے تو بریکنگ نیوز مل گئی کہ پرویز الہٰی کے گھر میں چھاپہ مارا گیا۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے 3 رکنی ٹیم بنائی اور ہمیں پی ڈی ایم کے ساتھ مذاکرات کے لیے کہا اور سپریم کورٹ نے یہ تجویز دی تھی کہ سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کوئی راستہ نکال لیں۔ ہماری 3 نشستیں ہوئیں اور مثبت سوچ کو مدنظر رکھ کر پی ٹی آئی نے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ میں، بیرسٹر علی ظفر اور فواد چودھری کو یہ ذمہ داری سونپی گئی اور پی ڈی ایم اتحاد نے بھی کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ کمیٹی میں فضل الرحمان کی جماعت مذاکرات کے لیے راضی نہیں تھی۔

انہوں ںے کہا کہ اس مذاکراتی عمل کو تاخیری حربوں کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ الیکشن آئین کے مطابق ہوں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 روز میں الیکشن آئین کی پابندی ہے اور ہم چاہتے ہیں 14 مئی کو انتخابات ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ثاقب نثار کے حوالے سے جو میرے ذہن میں آیا ہے وہ نہیں کہہ سکتا، نواز شریف

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن ہو جائیں پھر کے پی میں بھی ہوں جبکہ پی ڈی ایم چاہتی ہے پنجاب سمیت پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہوں اور اسمبلیاں اپنی مدت یعنی 11،12 اگست تک پوری کریں۔ 11،12 اگست کی تاریخ پر بحث کی گئی اور ہم نے کہا قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور بلوچستان کی اسمبلی 14 مئی کو توڑی جائے۔ ہم نے کہا اسمبلیاں ٹوٹنے کے 60 روز میں الیکشن کرائے جائیں اور 60 روز سے الیکشن آگے لے جانے کے لیے آئینی ترمیم کرنی ہو گی جس کے لیے پی ٹی آئی کو اسمبلی میں جانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی معاہدہ ہو وہ لکھا ہوا ہو اور اسے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور ہم نے کہا الیکشن ایسے ماحول میں ہوں جن کا نتیجہ تسلیم کیا جائے۔ ہم نے قومی اتفاق رائے کے لیے لچک دکھائی نگران حکومتوں اور ایک دن پر آمادہ ہوئے اور ہم یہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمارا پی ڈی ایم کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا۔ خواجہ آصف اور جاوید لطیف کی پریس کانفرنس نے حالات کو مزید پیچیدہ کیا۔ ہماری تجویز ہماری نظر میں مثبت تھی اور قابل عمل تھی اور آئین کے دائرہ اختیار میں رہ کر ہم نے تجاویز کو سامنے رکھا جبکہ جس نیک نیتی سے ہم نے کوشش کی ہم اپنا مؤقف سپریم کورٹ کو لکھ کر بتا دیں گے۔ تمام معاملات اور مذاکرات میں ہونے والی گفتگو کو لکھ کر سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے اور ہم چاہیں گے 14 مئی کو پنجاب میں انتحابات ہوں۔


متعلقہ خبریں