حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک ہی دن الیکشن کرانے پر اتفاق ہو گیا، اسحاق ڈار

ایکسپورٹرز کیلئے خوشخبری، بجلی 19 روپے99 پیسے فی یونٹ ملے گی، اسحاق ڈار

اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی دن میں الیکشن کرائے جائیں گے۔

باجوہ نے حسین حقانی کو میرے خلاف ہائر کیا، پاکستان تباہ کرنا ہے تو مارشل لا لگا دیں، عمران خان

یہ بات وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے اختتام پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے  مرکزی رہنما اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ انتخابات نگران حکومتوں کے ذریعے ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا دونوں فریقین نے مثبت سوچ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں حصہ لیا، دونوں فریقین نے علیحدہ علیحدہ انتخابات کی تاریخ کی پیش کش کی ہے، دونوں فریقین کی تاریخ میں لچک آئی مگر ایک تاریخ پر اتفاق نہیں ہوا، تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

پی ٹی آئی کے سینئر وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں ایک ہی دن الیکشن کرانا چاہتی ہے۔

وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کا رواج ختم، عدالتی فیصلوں کا ٹرائل کیا جائے، خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کی روح کے مطابق تھا، اس پر عمل ہونا چاہیے تھا، چاہتے تھے کہ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات ہوں، قومی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں 14 مئی سے قبل تحلیل ہوں۔

سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کی تجویز سے اتفاق کیا لیکن اسبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا ہم نے بحیثیت پارٹی کنسنسز کی جانب بڑھنے کو کوشش کی، اس مذاکراتی عمل کو تاخیری حربوں کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ الیکشن آئین کے مطابق ہوں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 روز میں الیکشن آئین کی پابندی ہے، ہم چاہتے ہیں 14 مئی کو انتخابات ہوں، ہم چاہتے ہیں پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن ہو جائیں پھر کے پی میں بھی ہوں۔

سیاسی لوگ انصاف نہیں، من پسند فیصلے چاہتے ہیں، چیف جسٹس

انہوں نے کہا پی ڈی ایم چاہتی ہے پنجاب سمیت پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہوں، پی ڈی ایم چاہتی ہے اسمبلیاں اپنی مدت یعنی 11،12 اگست تک پوری کریں، 11،12 اگست کی تاریخ پر بحث کی گئی، ہم نے کہا قومی اسمبلی ، سندھ اسمبلی اور بلوچستان کی اسمبلی 14 مئی کو توڑاجائے، ہم نے کہا اسمبلیاں ٹوٹنے کے 60 روز میں الیکشن کرائے جائیں، 60 روز سے الیکشن آگے لے جانے کیلئے آئینی ترمیم کرنا ہو گی، آئینی ترمیم کیلئے پی ٹی آئی کو اسمبلی میں جانا ہو گا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے واضح طور پر کہا جو بھی معاہدہ ہو وہ لکھا ہوا ہو اور اسے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے، ہم نے کہا الیکشن ایسے ماحول میں ہوں جن کا نتیجہ تسلیم کیاجائے، ہم نے قومی اتفاق رائے کیلئے لچک دکھائی نگران حکومتوں اور ایک دن پر آمادہ ہوئے، ہم یہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمارا پی ڈی ایم کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا، ہماری دوسری نشست کے دوران 33 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا،ہم نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ لوگوں کو گرفتار نہ کیا جائے، مذاکرات ساز گار ماحول میں ہونے چاہئیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا دوسری نشست کے خاتمے کے بعد ہم واپس لاہور پہنچے تو بریکنگ نیوز مل گئی، پرویز الہٰی کے گھر میں چھاپہ مارا گیا، چاد ر اورچہار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا، خواجہ آصف اور جاوید لطیف کی پریس کانفرنسز نے حالات کو مزید پیچیدہ کیا، ہماری تجویز ہماری نظر میں مثبت تھی اور قابل عمل تھی، آئین کے دائرہ اختیار میں رہ کر ہم نے تجاویز کو سامنے رکھا۔

عمران خان کچھ بھی کہتے رہیں حکومت بجٹ پیش کرے گی، خرم دستگیر

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا جس نیک نیتی سے ہم نے کوشش کی ہم اپنا موقف سپریم کورٹ کو لکھ کر بتا دیں گے، تمام معاملات اور مذاکرات میں ہونے والی گفتگو کو لکھ کر سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے، ہم چاہیں گے 14 مئی کو پنجاب میں انتحابات ہوں، مذاکرات میں ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔


متعلقہ خبریں