سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، چیف جسٹس


ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن کرانے سے متعلق درخواست پرسماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، تین رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

اعلیٰ عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل، اسٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیے گئے، جس پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

چیف جسٹس سمیت 8ججز کو برطرف کرنے کا حکم دیا جائے، ریفرنس دائر

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہناتھا کہ آئرلینڈ میں جنگ کا سماں تھا لیکن وہاں الیکشن میں تاخیر نہیں ہوئی،ہمیں آئین کے ذریعے بتائیں کہ کیا الیکشن میں تاخیر کی جاسکتی ہے؟

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات انتخابات کیلئے موزوں نہیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کس قانون کے تحت سپریم کورٹ یہ کہہ دے کہ الیکشن آئندہ برس ہونگے؟الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ان کے پاس فنڈز اور سیکیورٹی نہیں کیسے انتخابات کرائیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا بھی کہا ہے،الیکشن کمیشن کی بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں،الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے،دہشتگردی ملک میں 1992 سے جاری ہے، سیکیورٹی کے مسائل ماضی کے انتخابات میں بھی تھے۔

چیف جسٹس کا کہناتھاکہ ملک میں 2008 میں تو حالات بہت کشیدہ تھے، بینظیر بھٹو کی شہادت 2007 میں ہوئی تھی، ملک میں 2013 میں بھی دہشت گردی تھی،ایسا کیا منفرد خطرہ ہے کہ جس کی وجہ سے الیکشن نہیں ہو سکتے؟

مولانا فضل الرحمان کا چیف جسٹس سے استعفیٰ کا مطالبہ

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے ایک ساتھ تمام سیکیورٹی فورسز نے فرائض سر انجام دئیے تھے، دو صوبوں میں الیکشن الگ ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے،حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے بلایا جاتا ہے۔آپریشنز میں متعین کردہ ٹارگٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش ہے، کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسمبلیاں پہلے تحلیل ہو جائیں گی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا،عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی،صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلی الیکشن بھی ہونے ہی تھے، آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کا کام بیرونی خطرات سے نمٹنا ہے،2001سے سیکیورٹی ادارے بارڈرز پر مصروف ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا۔

پیپلز پارٹی چیف جسٹس سے محاذ آرائی نہیں چاہتی، قمر زمان کائرہ

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ سماعت 27 مارچ کو شروع ہوئی، روزانہ کی بنیاد پر 4اپریل تک سماعت ہوئیں،آپ کی کوششوں سے ڈی جی ایم او نے آکر بریفنگ دی،

بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع بھی مو جود تھے، بریفنگ کے دوران میں نے ان کو کہا کہ جب سماعت ہورہی تھی وہ کیوں نہیں آئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن کا جواب آ پ نے دیکھا، الیکشن کمیشن حکام پہلے کہہ کر گئے کہ پیسے دے دیں ہم الیکشن کرالیں گے،اب الیکشن کمیشن کا جواب دیکھیں وہ کیا کہہ کر گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ وزارت دفاع کی جو درخواست آئی ہے اس میں جو استدعا کی گئی ہے وہ دیکھیں،ٹی وی چینلز پر ذمہ دار وزیر نے کہا اکتوبر کی تاریخ ممکنہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے اس موقع پر کہا کہ بلاول بھٹو نے بیان دیا ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے خواہشمند ہیں۔

چیف جسٹس کا کہناتھا کہ اس وقت ملک میں پریشانی کا عالم ہے،اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ن لیگ نے مذاکراتی کمیٹیاں بنادی ہیں، نوے دن کا وقت 14 اپریل کو گزر چکا ہے،90 دن میں الیکشن کرانے لازم ہیں۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال کو استعفیٰ دینا چاہئے،مریم نواز

چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے مطابق یہ سیاسی انصاف کا معاملہ ہے جس میں فیصلے عوام کرے گی،آپ کی تجویز ہے کہ سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں،عدالت نے یقین دہانی کرانے کا کہا تو حکومت نے جواب نہیں دیا، حکومت نے آج پہلی بار مثبت بات کی،عدالت ایک دن انتخابات کرانے کی درخواستوں پر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کردیتی ہے؟سیاسی جماعتوں کو کل کے لیے نوٹس جاری کررہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہنے پر بھی سوال اٹھتا ہے، معاملے کو زیادہ طویل نہیں کیا جا سکتا، 5 دن عید کی چھٹیاں آ گئی ہیں،میرے ساتھی ججز کہتے ہیں 5 دن کا وقت بہت ہے۔

اس موقع پر وکیل شاہ خاور نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کبھی ایک وجہ سے نافذ نہیں ہو سکا کبھی دوسری وجہ سے، صوبوں میں منتخب حکومتیں الیکشن پر اثرانداز ہوں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب بحث ہورہی تھی تو اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اٹارنی جنرل کو نہ جانے کس نے 4/3 پر زور دینے کا کہا، اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے کس نے ان کو یہ مؤقف اپنانے سے روکا۔

وکیل شاہ خاور کاکہناتھاکہ سیاسی جماعتیں ابھی بھی متفق ہوجائیں تو آئیڈیل حالات ہوں گے، مذاکرات کی بات ہے تو 8 اکتوبر پر ضد نہیں کی جاسکتی،یکطرفہ کچھ نہیں ہوسکتا، سیاسی جماعتوں کو دل بڑا کرنا ہوگا، سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آ جائیں گے عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، اس موقع پر اٹارنی جنرل نے استدعا کرتے ہوئے کہاکہ عدالت سیاسی جماعتوں کو مہلت دے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ ہے،تاریخ پر جماعتیں مطمئن ہوئیں تو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا،قوم کی تکلیف اور اضطراب کا عالم دیکھیں۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ فیصل چودھری نے کہاکہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے آپ سے بہت امید ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پارٹی قیادت سے ہدایات لیکر عدالت کو آگاہ کریں،ممکن ہے عدالت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو طلب کرے۔

ایڈووکیٹ فیصل چودھری نے کہا کہ وزیر داخلہ ہر گھنٹے بعد عدالت کو دھمکیاں دیتا ہے،وزیر داخلہ کہتا ہے جو مرضی کر لے 14 مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہناتھاکہ سیاسی اتفاق رائے ہوا تو 14 مئی کا فیصلہ نافذ کرائیں گے،کیا آپ سڑکوں پر تصادم چاہتے ہیں؟ سیاسی عمل آگے نہ بڑھا تو الیکشن میں تصادم ہوسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کاکہنا تھا کہفریقین کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے،سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں کو نوٹسز جاری کردیئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا پارٹی ہیڈز کو بلالیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ہیڈز کی مصروفیات ہوتی ہیں ا سلئے ان کو نہ بلایا جائے، قیادت کو نوٹس کیا جائے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں۔

ہم پارلیمنٹ کی عزت کرتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ کیس بہت لمبا ہوگیا ہے،اٹارنی جنرل آپ نے بہت سی رپورٹس فائل کی ہیں،کیا ضمنی گرانٹ کی منظوری آرٹیکل 84 کے تحت بجٹ منظوری کے لئے بھیجی جاتی ہے؟

اٹارنی جنرل منصور عثمان کا کہنا تھا کہ سترہ اپریل کو فنانس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ فنانس کمیٹی کی کمپوزیشن کیا ہے، حکومتی اور اپوزیشن کے ممبران کتنے ہوتے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی میں پندرہ ممبران ہیں، اکثریت کس کی ہوتی ہے؟

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کابینہ نے رقم کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا تھا،حکومت بجٹ معاملہ پارلیمنٹ بھیجے تواکثریت والی پارٹی کوکون انکارکرے گا۔

نواز شریف کا چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ مولا ہمیں ہمت دے کے صحیح فیصلے کریں اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے، جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے، عدالت کو کہا گیا ضمنی گرانٹ کے بعد منظوری لی جائے گی،اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا،کیا الیکشن کیلئے ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہاکہ قائمہ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ قائمہ کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہے، حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہیے، مالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی نے قرارداد کی روشنی میں معاملہ پہلے منظوری کیلئے بھیجا، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کرسکتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہیں ہونا تھی؟جو بات آپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے۔

وزارت دفاع کی سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق اہم درخواست دائر

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں کہاگیا کہ دہشت گردوں اور شرپسندوں کی جانب سے انتخابی مہم پر حملوں کا خدشہ ہے۔

اعلیٰ عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کا حکم صادر کیا جائے۔


متعلقہ خبریں