سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور


قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے قرارداد رکن اسمبلی خالد مگسی نے پیش کی۔ قرارداد کے مطابق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کرلی۔

قرارداد کے مطابق ایوان ایک ہی وقت میں عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ 63 اے کی تشریح سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ ایوان مقدمات کو فل کورٹ میٹنگ کے فیصلوں تک سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کی تائید کرتا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کو کرانے کا حکم

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ایوان عدالتی فیصلے کو عجلت میں متنازعہ بینچ کے روبرو مقرر کرنے اور چند منٹوں میں فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ ایگزیکٹو سرکلر کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے اقدام کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان وزیراعظم اور کابینہ کو پابند کرتا ہے کہ اس فیصلے پر عمل نہ کیا جائے۔ فیصلے سے اقلیت کو اکثریت پر مسلط کیا گیا۔ اقلیتی فیصلہ سیاسی عدم استحکام پیدا کررہا ہے اور وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کر دی گئی۔ پی ٹی آئی کے محسن لغاری نے قرارداد کی مخالفت کی۔


متعلقہ خبریں