172 ممبران پارلیمنٹ لائیں آپ کو وزیر اعظم مان لیں گے، بلاول بھٹو


پاراچنار: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظالموں، ظلم اور سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے جبکہ ہم نے پہلے دن سے دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ عمران خان عوام کے نہیں کسی اور کے وزیر اعظم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جب سلیکٹڈ کا نام دیا تو وہ تالیاں بجا رہے تھے اور یہ مدینہ کی ریاست نہیں اس کی توہین ہے۔ عمران خان کی ریاست میں غیرمناسب زبان استعمال کی جاتی ہے اور یہ کیسی ریاست ہے جس میں امیروں کے لیے ریلیف اور غریبوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ یہ مدینہ کی ریاست نہیں بلکہ اس کی توہین ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسان صبح سے شام تک محنت کرتا ہے اور خالی پیٹ سو جاتا ہے اور کیا مدینہ کی ریاست میں جھوٹ کی اجازت ہے؟ وزیر اعظم نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے جو معاہدے کیے گئے وہ عوام کے مفاد میں نہیں تھے اور عمران خان نے 50 لاکھ گھر بنانے کاوعدہ کیا تھا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ خودکشی کروں گا آئی ایم ایف نہیں جاوں گا لیکن وزیر اعظم بنتے ہی آئی ایم ایف کے پاس گئے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 یا 4 اپریل کو ہو گی، وزیر داخلہ

انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسی کی وجہ سے ملک میں تاریخی مہنگائی اور غربت کا سامنا ہے جبکہ پاکستانی عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔ عمران خان نے معیشت تباہ کی اور کسانوں کے لیے سبسڈی کا مطالبہ کیا تو کہا گیا پیسہ نہیں ہے لیکن بجٹ میں پسندیدہ لوگوں کے لیے اربوں کی سبسڈی دی گئی۔ اے ٹی ایمز کے لیے اربوں کی ایمنسٹی اسکیم دے دی گئی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ذاتی حملہ نہیں کرتا۔ اگر جنگ ہار رہے ہیں تو کیا گالی دینا مناسب بات ہے؟ میں نے سب کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر جمع کیا اور استعفیٰ کے معاملے میں اپوزیشن ایک طرف اور میں دوسری طرف تھا۔ میں نے کہا کہ استعفیٰ مت دیں اور حکمرانوں کو کھلا میدان نہیں دیں گے، ضمنی انتخابات میں بھی میں نے کہا کہ میدان مت چھوڑیں لیکن جب اپوزیشن نے میری بات مانی تو ضمنی انتخابات کا منظر سب نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ساتھیوں نے کہا عمران خان کے پیچھے سہولت کار ہیں لیکن سینیٹ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کرنے سے انکار کیا۔ پیپلز پارٹی مزدوروں اور کسانوں کی جماعت ہے لیکن موجودہ حکمرانوں کا ہر وعدہ جھوٹ ہے۔ قدرتی آفات کے لیے امداد پر بھی ٹیکس عائد ہوا اور اسپتالوں کے لیےعطیات پر بھی ٹیکس لگائے گئے۔ بجٹ میں بچوں کے دودھ پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم جب پارلیمان میں آ گئے تو عمران خان کو سب نے دیکھ لیا اور ہم نے چند کارڈ دکھا کر ثابت کر دیا کہ عمران خان کمزور ہیں۔ 3 سال پہلے اپوزیشن کی سیاست سے موازنہ کریں۔ عمران خان اپنی اکثریت کھو چکے ہیں اور یہ کیسے کپتان ہیں جو پچ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں چیلنج کیا گیا کہ عدم اعتماد لاؤ اور جب ہم میدان میں آگئےتو یہ بھاگ گئے۔ ہم 8 مارچ سے عدم اعتماد جمع کر چکے ہیں اور اب عمران خان بھی اچھے کھلاڑی بن کر اسپورٹس اسپرٹ دکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جلسہ جلسہ کھیل رہے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں ایم این ایز لے کر آجائیں تو ہم مان لیں گے۔ اقتدار بچانے کے لیے پاکستان کو تباہ کیا جا رہا ہے اور عمران خان نے پہلے دن سے ملکی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا اب عمران خان جلسے میں بھارتی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہیں۔

کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کشمیر پر حملے کے وقت پارلیمنٹ میں کہا میں کیا کروں اور اگر عمران خان کو معلوم نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے تو عہدہ چھوڑ دیتے لیکن عمران خان کشمیر کا وکیل بنتے بنتے کلبھوشن کا وکیل بن گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پارا چنار کے شہدا کے قاتلوں کو معافی کبھی نہیں دوں گا اور عمران خان اب دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیگ مانگتے رہے۔ اگر کسی سے مذاکرات کرنے تھے تو پارلیمنٹ میں بات کرتے۔ عمران خان نیب نیب کر کے اپوزیشن کا پیچھا کرتے رہے لیکن کیس ثابت نہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے حکم سے کام کریں گے اور کٹھ پتلی کو عوام پہچان چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں انسداد کرپشن کے ادارے کو بند کرا دیا گیا ہے اور عالمی ادارے کے رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں پاکستان میں زیادہ کرپشن ہوئی ہے۔ عمران خان کرکٹ کے کھلونے بیچ کر تو کچن نہیں چلا رہے۔ عمران خان جھوٹ بولنا بند کریں ورنہ ہم سچ بولنا شروع کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں ملوث شخص کیسے بیرونی ایجنٹ کا الزام لگا سکتا ہے اور سلیکٹر اگر کہے کہ سلیکشن ہمارا کام نہیں تو خوش آئند بات ہے تاہم ہر ادارہ قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر کام کرے۔ عمران خان تو ہر ادار ے کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات شفاف ہوں گے اور کوئی ادارہ متنازعہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارے کسی ایک شخص کے نہیں بلکہ عوام کے ہیں اور ہم کسی کو اداروں کو متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عمران خان جنگل کے قانون کے خواہاں ہیں جو ہم نہیں بننے دیں گے اور اگر یہ سچ کا جواب نہیں دے سکتے تو کہتے ہیں بلاول کو اردو نہیں آتی۔ عمران خان نے میرے ناشتے کے بلوں تک کی تحقیقات کرا دی۔

عمران خان پر مزید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اردو کمزور ہے لیکن آپ کی 70 سال کی عمر میں بھی اردو خراب ہے۔ مجھے اردو سکھانے سے پہلے اپنے بچوں کو سکھا دیں۔ مولانا فضل الرحمان اور ہماری جماعت کے سیاسی اختلافات رہے ہیں تاہم ہماری طرف سے مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی بات نہیں ہوئی۔ عمران خان نے ملک میں ڈیزل مہنگا کر دیا جبکہ ڈیزل کہنے والے خود ڈیزل ہیں۔ پہلے عمران خان نے کہا کہ ہمیں او آئی سی تک وقت دیں اور اب 27 مقارچ کے جلسے تک مہلت مانگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو وقت کے ظالم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ہم اسے ہیرو مانتے ہیں اور عمران خان کو لگ پتہ چل جائے گا کہ سہولت کار کے بغیر وہ کیا ہیں۔ ہم تو شادی کی تقریبات میں جاتے ہیں لیکن آپ نہیں جاسکتے۔ اب آپ کو لگ پتہ چل جائے گا کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں