الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو نااہل قرار دے دیا


کپتان کا بڑا کھلاڑی آوٹ ہو گیا، الیکشن کمیشن نے جھوٹا بیان حلفی دینے پرسینیٹر فیصل واوڈا کوتاحیات نااہل قراردے دیا۔

فیصل واوڈا بھی آرٹیکل 62 ون ایف کا شکار ہوئے، بطورایم این اے تنخواہ، مراعات واپس کرنے اورسینیٹ کی رکنیت کا نوٹیفکیشن بھی واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے جرم چھپانے کے لئے سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈال کر اگلے دن قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔

چیف الیکشن کمشنرنے محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے ریٹرننگ افسر کو جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا۔فیصل واوڈا نے خود کواپنے کنڈکٹ سے مشکوک بنایا۔ بطورایم این اے سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالا۔

جس کے بعد خود کوبطور سینیٹ امیدوارپیش کردیا۔فیصل واوڈا کا بطوررکن اسمبلی مستعفی ہوکرسینیٹ الیکشن لڑنا مشکوک تھا۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ فیصل واڈا کو 2018 سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ سیکرٹری قومی اسمبلی 2 ماہ میں فیصل واوڈا کی جانب سے بطور رکن قومی اسمبلی لی گئی مراعات اورتنخواہیں واپس لیں۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی سینٹ کی رکنیت کا نوٹیفکیشن بھی واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

فیصل واوڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہ، قادرمندوخیل،  میاں فیصل اور میاں آصف محمود کی جانب سے 21 جنوری 2020 کو الیکشن کمیشن میں درخواستیں دی گئی تھیں۔

اس کیس میں کل 23 سماعتیں ہوئیں، جبکہ فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ ہوا۔ فیصل واوڈا پر کاغذات نامزدگی میں دوہری شہریت چھپانے کا الزام تھا۔


یہ فوری خبر ہے۔ مزید تفصیلات اور معاملے کے درست حقائق جاننے کے لئے اس صفحہ کو ریفریش کریں۔
متعلقہ خبریں