منی بجٹ: اپوزیشن کا ہنگامہ، شور شرابہ، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ، کاپیاں پھاڑ دیں


اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں حزب اختلاف نے منی بجٹ کے خلاف احتجاج کیا اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے شروع ہوتے ہی حزب اختلاف کی جانب سے منی بجٹ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا گیا۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے مالیاتی ضمنی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ مشیر خزانہ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق بل کی بھی تحریک پیش کی۔ اسپیکر اسمبلی کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے متعلق ترمیمی بل کمیٹی کو ریفر کر دیا گیا۔

حزب اختلاف اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی خواتین ارکان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے پی ٹی آئی کی رکن غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا۔

پیپلز پارٹی رہنما نوید قمر نے کہا کہ 8 میں سے 6 آرڈیننس ایکسپائر ہو چکے ہیں اور جن آرڈیننس کی مدت ختم ہوجائے وہ بل پیش نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے ایکسپائرڈ بل پیش کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپائرڈ آرڈیننس ایسے ہیں جیسے مردے میں جان ڈالی جائے۔

بابر اعوان نے اظہار خیال کیا کہ آرڈیننس ہم نے بروقت اسمبلی میں فائل کر دیا تھا اور یہ آرڈیننس قانونی ہے۔

حزب اختلاف کے اراکین نے شوکت ترین کی نشست کا گھیراؤ بھی کیا جس پر اسپیکر اسد قیصر نے حزب اختلاف اراکین کو اپنی نشستوں پر جانے کی ہدایت کی۔

حزب اختلاف نے بل پیش کرنے کی تحریک پر گنتی کا مطالبہ کیا جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گنتی کرانے کی ہدایت کی۔ بل پیش کرنے کے حق میں 145 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے رویے پر ساری قوم شرمسار ہے۔ ملکی معاشی خودمختاری کا سودا کیا جا رہا ہے اور تین سال لوٹ مار نہ کی جاتی تو آج منی بجٹ پیش کرنے کی نوبت نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں وہ آرڈیننس پیش کیے جا رہے ہیں جن کی مدت ختم ہو چکی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایکسپائر آرڈیننس کو ری نیو نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پر رحم کریں اسے نہ بیچیں۔ اسٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دیا جا رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں معاشی طور پر غلام بنایا جا رہا ہے اور جو ملک معاشی طور پر غلام ہو جائے وہ کالونی بن جاتا ہے۔ میں پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اتنی مہنگائی میں تنخواہ دار طبقہ کیسے اپنا گزارا کرے ؟ اسٹیٹ بینک کو قرضوں کے لیے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے۔ یہاں پتہ نہیں کون سی حکومت ہے جبکہ آپ نعرے لگاتے تھے کہ ہم دودھ کی ندیاں بہا دیں گے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ مودی کو گھر بلوانے والے ہمیں درس دیتے ہیں اور یہ خود ہی اپنی تعریفیں کرتے ہیں لیکن ہماری تو عالمی فورم تعریف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپائرڈ لیڈروں کی تقریر سننا ہم پر لازم نہیں ہے۔ کچھ ہفتوں سے حزب اختلاف نے طوفان کھڑا کیا ہوا تھا لیکن ان کے صرف تین مبرز ووٹ ڈالنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ کورونا کے بعد ایک صاحب اپنی سی وی اپڈیٹ کر کے بھاگے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہماری 15 اور 3 جماعتوں کی 9 سیٹیں ہیں اس لیے ان جماعتوں کے لیے 40 دن کے سوگ کا اعلان کیا جائے۔ تحریک انصاف اکیلی نے کے پی بلدیاتی انتخابات میں ابھی تک 15 تحصیلیں جیتی ہوئی ہیں لیکن یہ 3 جماعتیں مل کر بھی کچھ نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور نہ صرف ان کا جہاز گرایا بلکہ ان کے پائلٹ کو چائے پلا کر واپس بھیجا۔

اسد عمر نے خواجہ آصف کے لیے خواجہ آصف کا ہی جملہ دہرا دیا اور کہا کہ سرنڈر سے متعلق خواجہ آصف کی تقریر پر کہوں گا کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جس طریقے سے ترامیم کی جا رہی ہیں اس سے پارلیمنٹ کا تقدس پامال ہو رہا ہے اور اگر آئین کے تحت چلیں تو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ پر داغ لگایا گیا ہے اور حکومت کا طریقہ کار ناقابل برداشت ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما مولانا اسعد محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے خارجہ اور معاشی پالیسی کو تباہ کر دیا ہے اور حکومت حزب اختلاف کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اسٹیٹ بینک اور معاشی خودمختاری کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا۔ قومی اسمبلی کو بے توقیر کر دیا گیا ہے۔ ایوان کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


متعلقہ خبریں