کراچی سے 49 کھرب 60 ارب ٹیکس جمع، واپس لگا صرف 52 ارب


گزشتہ 2 مالی سال کے دوران کراچی سے ایف بی آر نے 49کھرب،60ارب،75کروڑ روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا جبکہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 52 ارب روپے جاری کیے گئے۔

قومی اسمبلی میں پوچھے گئے سوالات کے تحریری جوابات میں بتایا گیا کہ مالی سال 2019-20میں 22 کھرب 23ارب 37کروڑروپے اور مالی سال 2020-21 میں 27کھرب37ارب38کروڑ روپے ریونیو جمع کیا گیا۔

ان دو برسوں میں وفاقی ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 61ارب35کروڑروپے مختص کیے گئے اور 52 ارب 7کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

ایک تحریری جواب میں وزیرخزانہ نے ایوان کو بتایا کہ کسانوں خاص طوپر زیتون ، چائے اور مشروم کی کاشت کیلئے بلاسود قرض دینے کی تجویز زیر غور نہیں، تحریری جواب میں بتایا گیا کہ وفاقی سرکاری ملازمین کی آسامیوں کی اپ گریڈیشن کیلئے تجویز زیر غور ہے۔

حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے متعدد انتظامی اور پالیسی اور ریلیف اقدامات کیے گئے ہیں ان میں نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی، سستے بازار اور یوٹیلٹی آئوٹ لیٹس، مسابقتی کمیشن، ڈسٹرک پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کی گئی ہیں۔

گندم، چینی کی درآمد کی جارہی ہے، ریلیف اقدامات کے تحت احساس پروگرام کے تحت فنڈز کو 210ارب روپے سے بڑھا کر 260ارب روپے کر دیئے یگا، بے روزگار اور غریب افراد کیلئے پناہ گاہوں میں اضافہ کیا گیا۔

روزنامہ جنگ کے رپورٹ کے مطابق بیروزگاری کی شرح پر قابو پانے کیلئے تعمیراتی پیکج، ٹیکسٹائل پیکج، کامیاب جوان پروگرام، ریلیف پیکج جاری کیا گیا۔سی پیک کے تحت روزگار پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے،

 


متعلقہ خبریں