طالبان نے خواتین اینکرز کو کام کی اجازت دے دی


افغانستان کے بڑے تشریاتی ادارے میں” طلوع نیوز” کی سکرین پر خواتین اینکرز نے دوبارہ ڈیوٹیز سنبھال لی ہیں۔

طالبان کے دارلحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالتے ہی زیادہ تر چینلز نے خواتین اینکرز کو ٹی وی سکرینوں سے ہٹا دیا تھا۔

تاہم کچھ ہی دنوں بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر اور ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں ایک خاتون اینکر کو طالبان کی میڈیا ٹیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ ویڈیو میں خاتون رپورٹر کابل سے لائیو رپورٹنگ کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: جمائما گولڈ اسمتھ بھی کابل کےحالات پر بول پڑیں

طالبان کے کنٹرول سنھالتے ہی سب سے زیادہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ جس پر پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی گزشتہ روز ٹوئٹ کی تھی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین، اقلیتوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے بارے میں بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے عالمی، علاقائی اور مقامی طاقتوں کو فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کو بھی کہا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نوے کی دہائی میں طالبان کے دور میں افغانستان کے شہروں میں خواتین کو اپنے گھروں سے بغیر محرم نکلنے پر سخت پابندی تھی اور اسی وجہ سے اب بھی طالبان کے زیر کنٹرول شہروں میں خواتین اپنے گھروں سے نکلنے سے ڈرتی ہیں۔


متعلقہ خبریں