شادی کے وقت دیئے گئے تحفے دلہن کی جائیداد ہیں، سپریم کورٹ


سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ شادی کے وقت دلہن کو دیئے گئے تحفے اس کی جائیداد ہیں۔

شادی کے وقت دلہن کو دیئے گئے تحفے سے متعلق کیس کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دلہن کو ملنے والے تحائف  بیوی سے واپس نہیں لیے جا سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عورت کو اپنی جائیداد رکھنے اور کاروبار کرنے کا پورا حق ہے۔ عورت کا والدین اور شوہر سے میراث لینے کا حق ، قانون میں واضح طور پر طے کیا گیا ہے۔

بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو فوری حق مہر دینا ہو گا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ شوہر اپنی بیویوں کی میراث فراہمی کیلئے وصیت کیا کریں۔ پاکستان میں قرآن مجید کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کا 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ایک کیس کا فیصلے سناتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو حق مہر فوری ادا کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواستگزار محمد جمیل کو حق مہر فوری ادا کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق مہر معجل ہو یا غیر معجل دونوں صورتوں میں فوری واجب الادا ہوگا، دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ دوسری شادی کیلئے اجازت کا قانون معاشرے کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔

دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل


متعلقہ خبریں