میانمار: فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ نے نئی پابندیاں عائد کردیں

Joe Biden

فائل فوٹو


واشنگٹن: امریکہ نے میانمار میں فوجی حکومت قائم کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پہلے ہی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

میانمار: فوجی بغاوت کے خلاف بغاوت

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ایک حکمنامہ جاری کررہے ہیں جس کے نتیجے میں میانمار میں فوجی بغاوت کرنے والے جرنیلوں کو امریکہ میں موجود ایک ارب ڈالرز کے اثاثوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اس بات کا بھی واضح طور پر عندیہ دیا کہ وہ اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی کر رہے ہیں۔

میانمار بغاوت: امریکہ نے پابندیوں کی دھمکی دے دی

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ فوج کو اقتدار سے علیحدہ ہونا چاہیے اور برما کے عوام کی مرضی کا احترام کرنا چاہیے۔

میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے لاکھوں افراد سڑکوں پر ہیں اور وہ فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے و احتجاج کررہے ہیں۔

میانمار میں فوجی بغاوت:آنگ سان سوچی اور دیگر رہنما زیر حراست

میانمار کی فوج نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ اس نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی رہنما آنگ سان سوچی سمیت دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔

میانمار کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس نے ملک میں آئندہ ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔


متعلقہ خبریں