سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، عدالت

6 ججز کے خط

اسلام آباد: سینیٹ انتخابات کے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خریدو فروخت روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ نے ریفرنس پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا آپکی بات مان لیں تو آرٹیکل 186 غیر موثر ہو جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن تو خفیہ ووٹنگ کے حق میں ہے۔ اختیار استعمال کرنا آتا ہو تو الیکشن کمیشن بہت طاقتور ادارہ ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ حکومت نے آئینی ترمیمی بل اسی حوالے سے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ریفرنس کو چلانا ایک مسئلے کے بیک وقت دو حل تلاش کرنے کے مترادف ہوگا۔ آئینی ترمیمی بل پیش ہونے تک عدالت اس ریفرنس کی سماعت روک دے تاکہ دو ادارے مد مقابل نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹ انتخابات: آئین پاکستان میں ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، دوسرا راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کرنا ہوگی۔ ان دونوں صورتوں میں عدالت اور پارلیمان آمنے سامنے کیسے ہوں گئے؟

معزز جج نے کہا کہ قانون سازی پارلیمینٹ کا کام ہے اور آئین کی تشریح عدالت کا اختیار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا بل پارلیمنٹ میں ہوتے ہوئے بھی عدالت ریفرنس پر رائے دے سکتی ہے۔ حسبہ بل کیس میں عدالت گورنر کو بل پر دستخط سے بھی روک چکی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام نہیں؟ آئینی ترمیم پیش ہو یا نہ ہو عدالت کو تشریح کا اختیار حاصل ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا اپوزیشن اوپن بیلٹ پر متفق کیوں نہیں ہورہی؟

اٹارنی جنرل نے کہا اپوزیشن چاہتی ہے ایوان بالا میں ووٹ فروخت کرنے دیے جائیں۔ ہر لڑائی فتح کے لیے نہیں لڑی جاتی۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔


متعلقہ خبریں