شہباز شریف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثوں کی تفصیلات جاری


لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی تفصیلات جاری کردیں۔

نیب دستاویزات کے مطابق شہباز شریف کے اثاثے1990 میں صرف 21 لاکھ 21 ہزار تھے۔ 1998 میں شہباز شریف کے اثاثے بڑھ کر ایک کروڑ 46 لاکھ 65 ہزارہو چکے تھے۔

نیب دستاویزات کے مطابق 2008 سے 2018 کے دوران شہباز شریف نے پبلک آفس کا عہدہ سنبھالا۔ سرکاری عہدہ حاصل کرنے کے بعد شہبازشریف کے اثاثوں میں حیرن کن اضافہ ہوا۔

نیب دستاویزات  کے مطابق 10 سال میں شہباز شریف اور ان کی فیملی کے اثاثے 7 ارب 38 کروڑ 20 لاکھ ہوگئے۔ شہبازشریف فیملی نے سیاست میں آنے کے بعد 2 ہزار 770 ملین سے 13 کمپنیاں بنائیں۔

نیب دستاویزات کے مطابق شہباز شریف نے 2 ارب 40 کروڑ سے تین بے نامی کمپنیاں بنائیں۔ شہباز شریف نے بے نامی گڈنیچر، یونی ٹاس اور وقار ٹریڈنگ کمپنی بنائی۔

نیب دستاویزات کے مطابق شہبازشریف نے سیاست میں آنے کے بعد 61 کروڑ 98 لاکھ 58 ہزار کی جائیدادیں بنائیں۔ شہباز شریف نے 7 ارب 32 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے بنائے۔

مزید پڑھیں: نواز، شہباز اور ہم سب ایک ہیں، قیادت نواز شریف کریں گے: مریم نواز

اس سے قبل لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جس کے بعد نیب نے شہباز شریف کوحراست میں لے لیا۔

نیب کی ٹیم نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کو کمرہ عدالت سے حراست میں لیا اور روانہ ہو گئی۔ نیب کی ٹیم شہباز شریف کو لے کر نیب لاہور آفس پہنچ گئی۔ نیب آفس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا ابتدائی طبی معائنہ کیا گیا۔

گرفتاری سے قبل شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ نیب کو ڈھائی سو سال لگ جائیں گے لیکن ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ دن رات محنت کر کے پنجاب کے عوام کی خدمت کی۔ سندھ کے مقابلے میں گنے کی قیمت زیادہ رکھی اور سبسڈی بھی نہیں دی۔ اس سے ان کے بچوں اور عزیزوں کی شوگر ملز کو نقصان ہوا۔ قومی خزانے کا ایک ہزار ارب بچایا، اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ نیب کے وکیل نے کہا انیس سو نوے میں شہباز شریف کے اثاثے بائیس لاکھ روپے تھے جو دو ہزار اٹھارہ میں سات ارب تک پہنچ گئے۔


متعلقہ خبریں