پاکستانی ہندوؤں کے قتل کا معاملہ، بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے بھارت کے جاری کردہ نئے نقشوں کو مسترد کر دیا

فوٹو: فائل


اسلام آباد: بھارت میں گیارہ پاکستان ہندووں کے قتل کے معاملے پر پاکستان میں بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی ہوئی ہے۔

ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق پاکستان نے گیارہ پاکستانی ہندوؤں کے قتل پر احتجاج  کیا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے بتایا ہے کہ پاکستان نے بھارتی حکومت سے پاکستانیوں کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے متعدد بار بھارتی حکومت سے واقعے کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بھارتی حکومت معاملے پر ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ہے اور ٹھوس معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مرحوم کی بیٹی شرمتی مکھی نے اپنے والد کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کا بیان دیا ہے۔

بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک

انہوں نے مزید بتایا کہ شرمتی مکھی کے مطابق را اس کے والد والدہ اور دیگر اہلخانہ کے قتل میں ملوث ہے اور پاکستان مخالف کام کرنے کے لئے قائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کو متاثرین کے بھارت میں موجود خاندان تک رسائی دی جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ  ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرے اور پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو پوسٹ مارٹم کے وقت رسائی دے۔


متعلقہ خبریں