’اگرعمران خان کرپشن پر جیل میں گئے تووہ بھی اسی جیل میں رہیں گے‘



اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے اور اگر کرپشن الزامات پر عمران خان کو جیل جانا پڑا تو وہ بھی اسی جیل میں رہیں گے۔

پروگرام ایجنڈا پاکستان کے میزبان عامرضیاء نے کہا کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کا آئین و قانون یہی کہتا ہے اور پروگرام کے شرکاء نے بھی ان سے اس بات پر اتفاق کیا۔

تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا ملک کی بدقسمتی ہے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں ہوتا۔ جتنا بڑا مجرم ہے وہ اتنا ہی قانون سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب کررہی ہے، ہم کسی سے انتقام نہیں لے رہے ہیں۔ جسے جو سہولت دی جاتی ہے وہ اس کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اس لیے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

شوکت بسرا نے کہا کہ ہماری حکومت کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس، جیل اصلاحات پر کام کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارا موقف یہ ہے کہ سب کے لیے ایک نظام ہونا چاہیے، جو بھی ہو وہ یکساں سلوک برداشت کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر نوازشریف کے ساتھ کچھ غلط کررہی ہے تو یہ لوگ عدالتوں سے رجوع کرلیں۔نوازشریف کوعدالتوں نے ضمانت دی لیکن ان چھ ہفتوں میں انہوں نے علاج نہیں کرایا۔

شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جس قیدی کو قید بامشقت ہوتی ہے وہ یہ کام کرتا ہے لیکن نواز شریف ایسا نہیں کررہے ہیں۔

سماجی کارکن ماروی سرمد نے کہا کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے، پہلے معاشرے سے تفریق ختم کریں اس کے بعد جیل سے بی اور سی کلاس ختم ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب نہیں کررہی بلکہ انتقام لے رہی ہے۔ اگر اس نے سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا ہے تو آئین توڑنے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرے۔

ماروی سرمد نے کہا کہ اگر حکومت بار بار احتساب کرنے کا کریڈٹ لیتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ادارے آزاد نہیں ہیں اور حکومت ان کے کام میں مداخلت کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی نفرت پھیلانے کے لیے نعرے لگاتی ہے، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے لیکن ڈاکٹروں نے جس کو جو سہولت دی ہے وہ بھی واپس نہیں لی جانی چاہیے۔

ماروی سرمد نے کہا کہ سب کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئیے لیکن اس کے باوجود مجرموں کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں۔

ماہرقانون راجہ عامر عباس نے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق کسی بھی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری جیلوں میں لاکھ روپے چوری کرنے والے کو پنکھا نہیں ملتا لیکن اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے کو ہر سہولت مل جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو سزا اسلام آباد میں ہوئی لیکن انہیں راولپنڈی کے بجائے لاہور قید ہونے کا موقع دیا گیا، یہ وہ رعایت ہے جو ہرقیدی کو نہیں ملتی۔

راجہ عامر عباس نے کہا کہ بڑے عہدے کا مطلب بڑی ذمہ داری بھی ہوتا ہے، اس لیے انہیں سزا بھی سخت ملنی چاہیے اور ایسا سپریم کورٹ بھی اپنے فیصلے میں کہے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ بی کلاس میں رہنے والے قیدیوں کا کھانا گھروں سے آتا ہے۔ جیل میں کوئی سابق وزیراعظم نہیں ہوتا بلکہ ہر کوئی قیدی نمبر سے پہچانا جاتا ہے۔

ماہرقانون کا کہنا کہ جیل میں ڈالنے کا مقصد نشان عبرت بنانا ہوتا ہے تاکہ آئندہ وہ اور دوسرے لوگ یہ کام نہ کریں۔ حکومت کو جیل سے متعلق قوانین میں اصلاحات لانی چاہیئں اور سب پر قانون کا یکساں اطلاق بھی یقینی بنانا چاہیے۔


متعلقہ خبریں